کہاں کی گونج دل ناتواں میں رہتی ہے
کہاں کی گونج دل ناتواں میں رہتی ہے کہ تھرتھری سی عجب جسم و جاں میں رہتی ہے قدم قدم پہ وہی چشم و لب وہی گیسو تمام عمر نظر امتحاں میں رہتی ہے مزہ تو یہ ہے کہ وہ خود تو ہے نئے گھر میں اور اس کی یاد پرانے مکاں میں رہتی ہے پتہ تو فصل گل و لالہ کا نہیں معلوم سنا ہے قرب و جوار خزاں میں ...