یوں تو ان آنکھوں میں آتا ہے نظر دریا مجھے
یوں تو ان آنکھوں میں آتا ہے نظر دریا مجھے پھر بھی اس کا قرب رکھتا ہے بہت پیاسا مجھے زندگی بس یار کے غم پر نہیں ہے منحصر رات دن بے چین رکھتا ہے غم دنیا مجھے اب تو ان زخموں سے میری آشنائی ہو گئی چارہ گر بہتر یہی ہے اب نہ کر اچھا مجھے میں کہ جس کے واسطے برسوں رہا اک آب جو جاتے جاتے ...