میں البم کے ورق جب بھی الٹتا ہوں
زمانے کھو گئے آئندہ و رفتہ کے میلے میں زمینیں گم ہوئیں پیکار ہست و نیست میں ایسی کوئی نقشہ مکانوں اور مکینوں تک پہنچنے کا ذریعہ بھی نہیں بنتا ہے تصویریں اب اپنی بستیوں میں دم بخود سہمی ہوئی نادم پڑی ہیں میں البم کے ورق جب بھی الٹتا ہوں تو کچھ آنسو کے قطرے جھلملاتے ہیں فسردہ ...