شاعری

شہد گل گیت ابر تارا ہے

شہد گل گیت ابر تارا ہے ماں محبت کا استعارہ ہے زندگی دائمی تلاطم ہے اور ماں ہر گھڑی کنارہ ہے تربیت انبیا بھی پاتے ہیں ماں کی آغوش وہ ادارہ ہے جتنے جذبات ہیں محبت کے سب پہ ماں بس ترا اجارہ ہے زندگی تیرگی سے پر ایمنؔ ماں چمکتا ہوا منارہ ہے

مزید پڑھیے

عشق جیون کا باب ہے ایمنؔ

عشق جیون کا باب ہے ایمنؔ عشق آنکھوں کا خواب ہے ایمنؔ خوب ہلچل مچاتا ہے دل میں عشق دریا چناب ہے ایمنؔ خواہشوں کے حسیں گلستاں میں عشق جلتا گلاب ہے ایمنؔ زندگی کے سوال ہیں جتنے عشق واحد جواب ہے ایمنؔ سنتا کب ہے کسی کی خود کے سوا عشق بگڑا نواب ہے ایمنؔ مجھ کو حاجت نہیں کتابوں ...

مزید پڑھیے

جو اشک دل پہ گرے وہ شمار کر نہ سکی

جو اشک دل پہ گرے وہ شمار کر نہ سکی میں اس کے جذبوں کو دل پہ سوار کر نہ سکی وہ کر رہا تھا بغاوت پہ مجھ کو آمادہ مگر قبیلے کی عزت پہ وار کر نہ سکی وہ سبز باغ دکھاتا تھا مجھ کو وعدوں کے یہ آنکھ اس پہ مگر انحصار کر نہ سکی بچھڑ کے تجھ سے مری خود سے جنگ جاری رہی میں دل کی دنیا کبھی سازگار ...

مزید پڑھیے

نظر ہتھیار کرنا چاہتے ہیں

نظر ہتھیار کرنا چاہتے ہیں ادا سے وار کرنا چاہتے ہیں نگاہیں چار کرنا چاہتے ہیں تمہیں ہم پیار کرنا چاہتے ہیں رہے ہیں صبر کی بستی میں زندہ تو اب اظہار کرنا چاہتے ہیں نگاہیں بند کر لی ہیں کہ جاناں ترا دیدار کرنا چاہتے ہیں بنا کر حوصلہ پتوار اب ہم سمندر پار کرنا چاہتے ...

مزید پڑھیے

گاؤں والے کہاں بدلتے ہیں

گاؤں والے کہاں بدلتے ہیں آؤ ہم ہی جہاں بدلتے ہیں ایک ہم سے گریز کی خاطر کتنے وہ آشیاں بدلتے ہیں وہ عقیدت کے رنگ کیا جانیں روز جو آستاں بدلتے ہیں عقل والوں نے ہار کر یہ کہا عشق والے کہاں بدلتے ہیں ہم کو اردو ہے جان سے پیاری ہم نہیں وہ جو جاں بدلتے ہیں کیوں نہیں آتی ہیں ...

مزید پڑھیے

نئے زمانوں کی چاپ تو سر پہ آ کھڑی تھی

نئے زمانوں کی چاپ تو سر پہ آ کھڑی تھی مری سماعت گزشتہ ادوار میں پڑی تھی ادھر دئیے کا بدن ہوا سے تھا پارہ پارہ ادھر اندھیرے کی آنکھ میں اک کرن گڑی تھی فلک پہ تھا آتشیں درختوں کا ایک جنگل اور ان درختوں کے بیچ تاریک جھونپڑی تھی سمائی کس طرح میری آنکھوں کی پتلیوں میں وہ ایک حیرت جو ...

مزید پڑھیے

کن فیکوں کا حاصل یعنی مٹی آگ ہوا اور پانی

کن فیکوں کا حاصل یعنی مٹی آگ ہوا اور پانی پل میں بقا کا پل میں فانی مٹی آگ ہوا اور پانی نگری نگری پھرتی ہیں یہ دیواریں بھی ساتھ ہی میرے کرتے ہیں میری نگرانی مٹی آگ ہوا اور پانی خاک بسر ہوں شعلہ بجاں ہوں آہ کناں ہوں اشک فشاں ہوں دیکھ تو اپنی کارستانی مٹی آگ ہوا اور پانی میرا کیا ...

مزید پڑھیے

دنیا سے ہر رشتہ توڑا خود سے رو گردانی کی

دنیا سے ہر رشتہ توڑا خود سے رو گردانی کی صرف تمہارا دھیان رکھا اور جینے میں آسانی کی مجنوں اور فرہاد ہوئے جب عشق میں سب برباد ہوئے تب جنگل نے کوچ کیا صحرا نے نقل مکانی کی اس کی موہنی صورت جیسے پھولوں کا آمیزہ ہے اور اس کی آواز ہے گویا رے گا ما پا دھانی کی بھولی بسری یاد نے جب ...

مزید پڑھیے

اشک بھیجیں موج ابھاریں ابر جاری کیجئے

اشک بھیجیں موج ابھاریں ابر جاری کیجئے مہرباں سیل بلا کی آبیاری کیجئے اے چراغ طاق جاناں اے ہوائے کوئے دوست اپنی کیفیت ذرا ہم پر بھی طاری کیجئے شام ہجراں میں ستاروں کو نہ ٹھہرائیں شریک آئینہ خانے میں آ کر خود شماری کیجئے اشک باری سینہ چاکی دل خراشی ہو چکی لیجے صاحب عشق کا ...

مزید پڑھیے

انعکاس تشنگی صحرا بھی ہے دریا بھی ہے

انعکاس تشنگی صحرا بھی ہے دریا بھی ہے تر بتر یہ روشنی صحرا بھی ہے دریا بھی ہے آگ پر میرا تصرف آب پر میری گرفت میری مٹھی میں ابھی صحرا بھی ہے دریا بھی ہے جھیل میں ٹھہرا ہوا ہے اس کا عکس آتشیں آئنے میں اس گھڑی صحرا بھی ہے دریا بھی ہے جل اٹھیں یادوں کی قندیلیں صدائیں ڈوب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5463 سے 5858