شاعری

تابش یہ بھلا کون سی رت آئی ہے جانی

تابش یہ بھلا کون سی رت آئی ہے جانی صحرا میں کوئی ریگ نہ دریا میں ہے پانی خلوت کدۂ دل پہ زبوں حالیٔ بسیار ہے صورت گنجینۂ الفاظ و معانی ہر چند ہوئی اس کے عوض دل کی خرابی کیا کہیے کہ بڑھتا رہا شوق ہمہ دانی مجھ سے مری روتی ہوئی آنکھیں تو نہ چھنیو رہنے دو مرے پاس مری کوئی ...

مزید پڑھیے

کیسے افسوں تھے وہاں کیسے فسانے تھے ادھر

کیسے افسوں تھے وہاں کیسے فسانے تھے ادھر زندگی تجھ سے تعلق کے بہانے تھے ادھر کیا عجب خواب کے خوشبو کے ٹھکانے تھے ادھر اب تو کچھ یاد نہیں کون زمانے تھے ادھر یہ نہیں یاد کہ وہ باغ تھا کس کوچے میں اس قدر یاد ہے کچھ پھول کھلانے تھے ادھر ایک بستی تھی ہوئی وقت کے اندوہ میں گم چاہنے ...

مزید پڑھیے

بزم خالی نہیں مہمان نکل آتے ہیں

بزم خالی نہیں مہمان نکل آتے ہیں کچھ تو افسانے مری جان نکل آتے ہیں روز اک مرگ کا عالم بھی گزرتا ہے یہاں روز جینے کے بھی سامان نکل آتے ہیں سوچتا ہوں پر پرواز سمیٹوں لیکن کتنے بھولے ہوئے پیمان نکل آتے ہیں یاد کے سوئے ہوئے قافلے جاگ اٹھتے ہیں خواب کے کچھ نئے عنوان نکل آتے ...

مزید پڑھیے

غبار جہاں میں چھپے باکمالوں کی صف دیکھتا ہوں

غبار جہاں میں چھپے باکمالوں کی صف دیکھتا ہوں میں عہد گزشتہ کے آشفتگاں کی طرف دیکھتا ہوں میں سر کو چھپانے سے پہلے جہاں کا ہدف دیکھتا ہوں مہکتے ہوئے نیک پھولوں کو خنجر بکف دیکھتا ہوں ہے اندر تلک ایک نیزہ گلو میں کار وضو میں تو اس ہاؤ میں میں کہاں پر ہوں کس کی طرف دیکھتا ...

مزید پڑھیے

اک شہر تھا اک باغ تھا

اک شہر تھا اک باغ تھا اک شہر تھا یا تازہ میووں سے لدا اک باغ تھا اک باغ تھا یا شوخ رنگوں سے بھرا بازار تھا بازار تھا یا جگنوؤں کی روشنی سے کھیلتی اک رات تھی اک رات تھی یا گنگناتی جھومتی نغمات کی بارش میں بھیگی وصل کی سوغات تھی اک شہر تھا اک باغ تھا اک رات تھی اور ان کے دامن میں بہار ...

مزید پڑھیے

پرانی فائلوں میں گنگناتی شام

اب ان بوسیدہ کاغذ کے پلندوں کی ضرورت کیا بچی ہے ان لفافوں پر پتے سارے پرانے ہو چکے ہیں ان کو رکھنا کس لیے بے رنگ تحریروں میں ڈوبے ان خطوں کی کیوں حفاظت چاہئے یہ پرانی فائلیں ضائع اگر ہو جائیں تو نقصان کیا ہے ہاتھ کیوں رکتے ہیں ان کاغذ کے ٹکڑوں کو جلانے میں اب ان کی معنویت کیا بچی ...

مزید پڑھیے

عدم سے پرے

وہ جگمگاتا ہوا شہر میری آنکھوں میں تمام رات لرزتا ہے آنسوؤں کی طرح کبھی سسکتا ہے ٹوٹے ہوئے مناروں میں کبھی ٹپکتا ہے آوازۂ بہار کی صورت حساب قطرۂ اشک آئینہ ستونوں کا مرے بجھے ہوئے چہرے کے سامنے آ کر پکارتا ہے چلے آؤ جان عہد گزشتہ وہ سائبان بہت انتظار کرتا ہے اجڑ گئی ہے تکلم کی ...

مزید پڑھیے

ملاقاتیں نہیں پھر بھی ملاقاتیں

سبو ٹوٹے محبت کی نمازوں میں وضو ٹوٹے دعا روئی دعا کے آسمانوں پر کئی چشمان و لب روئے کبھی کوئی سبب رونے کا نکلا ہے مگر ہم بے سبب روئے زمینوں اور زمانوں کی عجب رنجو گردش میں ہوا کے آستانے پر جھکائے سر پشیماں بے زباں تنہائیوں کے قافلے اترے وہی ہم تھے مجسم بندگی زخمی تماشے کے نشانے ...

مزید پڑھیے

رات ابھی آدھی گزری ہے

رات ابھی آدھی گزری ہے شہر کی رونق بجھی نہیں ہے تھکے نہیں ہیں اس محفل کے ساز ابھی تک یاد کے بالا خانوں سے آتی ہے کچھ آواز ابھی تک میں کہ زوال شہر کا نوحہ لکھنے والا ایک پرانا قصہ گو ہوں علامتوں کے جنگل سے صندل کی لکڑی ہاتھ میں لے کر ایوانوں سے گزر رہا ہوں سازندے اب آخری تھاپ کی ...

مزید پڑھیے

حویلی موت کی دہلیز پر

حویلی موت کی دہلیز پر کب سے کھڑی ہے چاند نے بجھ کر ستاروں نے اداسی اوڑھ کر پھولوں نے خوشبو کا لبادہ پھینک کر ماحول پس از مرگ کا تیار کر ڈالا ہے بس اک آخری ہچکی کے سب ہیں منتظر سارے اعزا و اقارب نوحہ خوانی کے لیے تیار بیٹھے ہیں حویلی موت کی دہلیز پر کب سے کھڑی ہے اس کے مرنے میں اگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5461 سے 5858