شاعری

حیرت خانۂ امروز

اب کوئی پھول مرے درد کے دریا میں نہیں اب کوئی زخم مرے ذہن کے صحرا میں نہیں نہ کسی جنت ارضی کا حوالہ مجھ سے نہ جہنم کا دہکتا ہوا شعلہ کوئی میرے احساس کے پردے پہ رواں رہتا ہے میں کہاں ہوں؟ مجھے معلوم نہیں!! بولتے لفظ بھی خاموش تمنائی ہیں جاگتے خواب کی تعبیر یہی ہے شاید میری تقدیر ...

مزید پڑھیے

وہ تھی زلفیں تھیں اور شانہ تھا

وہ تھی زلفیں تھیں اور شانہ تھا کتنا الجھا ہوا فسانہ تھا ان کا اٹھنا ہمیں اٹھانا تھا درد سر یوں ہی اک بہانہ تھا پاؤں میں آبلے نہ پڑ جاتے دو قدم پر غریب خانہ تھا کیف عہد شباب کیا کہنا ہر قدم پر شراب خانہ تھا کھو گئی تھی نگاہ جلووں میں سارا عالم نگار خانہ تھا تم نے اس کو بھی سن ...

مزید پڑھیے

ردا کوئی دل ربا نہیں ہے نگہ کوئی دل نشیں نہیں ہے

ردا کوئی دل ربا نہیں ہے نگہ کوئی دل نشیں نہیں ہے طلسم ذوق نظر ہیں جلوے وگرنہ کوئی حسیں نہیں ہے ہمارے مقصد کی گمرہی سے قدم قدم پر بنے ہیں کعبے یہاں جھکی ہے وہاں جھکے گی کچھ کچھ اعتبار جبیں نہیں ہے ازل سے یہ رند لاابالی گدائے میخانۂ نظر ہے قسم تری کافر انکھڑیوں کی شراب ایسی کہیں ...

مزید پڑھیے

میں تھا اک شمع سوزاں رات بھر اٹھا دھواں مجھ سے

میں تھا اک شمع سوزاں رات بھر اٹھا دھواں مجھ سے سنی دنیا نے سو سو طرح دل کی داستاں مجھ سے ڈبو دی آبروئے سوز پنہاں تو نے آنکھوں کی شکایت کر رہے ہیں قطرہ ہائے رائیگاں مجھ سے رفیق کاروان نگہت گل ہے مری وحشت نہ آگے بڑھ سکے گی تو نگاہ باغباں مجھ سے مجھے نیند آ گئی تھی راہ کی ٹھنڈی ...

مزید پڑھیے

اعتراف

شب نشاط کے پیاروں کو چھوڑ آیا ہوں میں کتنے چاند ستاروں کو چھوڑ آیا ہوں یہ چاندنی پہ گھٹائیں یہ نیلگوں دریا میں ایسے کتنے نظاروں کو چھوڑ آیا ہوں تصورات کی دنیا حسین تھی جن سے میں ان حسین دیاروں کو چھوڑ آیا ہوں کوئی بتائے مجھے اب جیوں تو کیسے جیوں میں زندگی کے سہاروں کو چھوڑ آیا ...

مزید پڑھیے

شام سے تا بہ سحر کتنے ستارے ٹوٹے

کتنی ضو پاش امیدوں کے سہارے چھوٹے چاند اک مست شرابی کی طرح وارفتہ کہر کی دھند میں چلتا رہا گرتا پڑتا دشت تنہائی میں اٹھتے رہے خوش رنگ سراب رنگ کی لہروں پہ کھلتے رہے نسرین و گلاب سرو کے سائے میں الجھے ہوئے انفاس کے راگ ماضی و حال کے سنگم پہ چلاتے رہے آگ پہلے اک آگ لگی آگ پھر اک ...

مزید پڑھیے

گزرتے وقت کو بنیاد کرنے والا ہوں

گزرتے وقت کو بنیاد کرنے والا ہوں جو سب بھلاتے ہیں وہ یاد کرنے والا ہوں میں وہ نہیں ہوں کہ فریاد کرنے والا ہوں سکوت کو سخن ایجاد کرنے والا ہوں اندھیری رات اور اس پر مرے چراغ کا زعم اجڑتی بزم کو آباد کرنے والا ہوں میں اپنا کار وفا آزماؤں گا پھر بھی کہاں میں تیرے ستم یاد کرنے والا ...

مزید پڑھیے

قصۂ خواب ہوں حاصل نہیں کوئی میرا

قصۂ خواب ہوں حاصل نہیں کوئی میرا ایسا مقتول کہ قاتل نہیں کوئی میرا ہے بپا مجھ میں عجب معرکۂ سود و زیاں اس لڑائی میں مقابل نہیں کوئی میرا بہتا جاتا ہوں میں گمنام جزیروں کی طرف وہ سمندر ہوں کہ ساحل نہیں کوئی میرا ہے عجب بات کہ دشمن کا طرف دار بھی ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ دل نہیں ...

مزید پڑھیے

گھنی سیہ زلف بدلیوں سی بلا سبب مجھ میں جاگتی ہے

گھنی سیہ زلف بدلیوں سی بلا سبب مجھ میں جاگتی ہے وہ خواہش نامراد اب تک تمام شب مجھ میں جاگتی ہے وہ ایک بستی جو سو گئی ہے اداس بے نام ہو گئی ہے بہ حرف و صوت اب بھی چیختی ہے بہ چشم و لب مجھ میں جاگتی ہے ترے خیالوں کی مملکت کے تمام اصنام گر چکے ہیں بس اک تمنائے کافرانہ بس اک طلب مجھ ...

مزید پڑھیے

مجھ کو ناکردہ گنہ کا معترف ہونا پڑا

مجھ کو ناکردہ گنہ کا معترف ہونا پڑا رسم ایسی تھی کہ خود سے منحرف ہونا پڑا کوئی بھی مجھ سا نہ تھا بے باک بزم شوق میں اس طرح مجھ کو سبھوں سے مختلف ہونا پڑا ایک ہی شے تھی کہ جس پر بچ رہا تھا اعتماد پس مجھے اپنی انا سے متصف ہونا پڑا وہ یقیناً راز اندر راز تھا لیکن اسے ایک دن مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5459 سے 5858