شاعری

خاکساری تھی کہ بن دیکھے ہی ہم خاک ہوئے

خاکساری تھی کہ بن دیکھے ہی ہم خاک ہوئے اور کبھی معرکۂ فتح و ظفر دیکھ نہ پائے اس نے دیکھا ہے تو پھر دیکھنا کیا ہو جائے دیکھتے رہنا ہے ظالم کو ادھر دیکھ نہ پائے بے ہنر دیکھ نہ سکتے تھے مگر دیکھنے آئے دیکھ سکتے تھے مگر اہل ہنر دیکھ نہ پائے ہو گئے خواہش نظارہ سے بے خود اتنے دیکھنا ...

مزید پڑھیے

حیات سوختہ ساماں اک استعارۂ شام

حیات سوختہ ساماں اک استعارۂ شام چمک چمک کے بجھا ہے کوئی ستارۂ شام کسی کو فائدۂ شام خوش خصال ملا کسی کے حصے میں لکھا گیا خسارۂ شام بجھا رہے ہیں چراغ شگفتگئ بہار سمجھ چکے ہیں بہت ہم بھی یہ اشارۂ شام اسی قدر ہے حیات و اجل کے بیچ کا فرق یہ ایک دھوپ کا دریا وہ اک کنارۂ شام جنوں ...

مزید پڑھیے

یہاں کے رنگ بڑے دل پذیر ہوئے ہیں

یہاں کے رنگ بڑے دل پذیر ہوئے ہیں دیار عشق کے حاکم فقیر ہوتے ہیں ہر ایک دل میں تو یہ برچھیاں اترتی نہیں کوئی کوئی تو نظر کے اسیر ہوتے ہیں ہجوم بو الہوسی کے گھنے اندھیروں میں کچھ ایسے غم بھی ہیں جو دست گیر ہوتے ہیں ہر ایسے ویسے سے قفل قفس نہیں کھلتا اس امتحاں کے لیے کچھ حقیر ہوتے ...

مزید پڑھیے

ایک لحظہ نہ غم سود و زیاں ہم نے کیا

ایک لحظہ نہ غم سود و زیاں ہم نے کیا موسم ہجر میں یہ کار گراں ہم نے کیا یہ زمیں سخت تھی اصحاب محبت کے لئے چشمۂ اشک یہاں کیسے رواں ہم نے کیا کیسی ویرانی تھی ہم جس میں کھلاتے رہے پھول کیا عیاں تھا جسے ہر روز نہاں ہم نے کیا ہم نے جو کچھ بھی کیا غم کے حوالے سے کیا یوں نہیں کار جنوں رہ ...

مزید پڑھیے

جی رہے ہیں عافیت میں تو ہنر خوابوں کا ہے

جی رہے ہیں عافیت میں تو ہنر خوابوں کا ہے اب بھی لگتا ہے کہ یہ سارا سفر خوابوں کا ہے جی لگا رکھا ہے یوں تعبیر کے اوہام سے زندگی کیا ہے میاں بس ایک گھر خوابوں کا ہے رات چلتی رہتی ہے اور جلتا رہتا ہے چراغ ایک بجھتا ہے تو پھر نقش دگر خوابوں کا ہے رنگ بازار خرد کا اور یہ میرا جنوں اک ...

مزید پڑھیے

آوارہ بھٹکتا رہا پیغام کسی کا

آوارہ بھٹکتا رہا پیغام کسی کا مکتوب کسی اور کا تھا نام کسی کا ہے ایک ہی لمحہ جو کہیں وصل کہیں ہجر تکلیف کسی کے لیے آرام کسی کا کچھ لوگوں کو رخصت بھی کیا کرتی ہے ظالم رستہ بھی تکا کرتی ہے یہ شام کسی کا اک قہر ہوا کرتی ہے یہ محفل مے ہے بھی جب ہونٹ کسی اور کا ہو جام کسی کا مدت ہوئی ...

مزید پڑھیے

میری تنہائی کے اعجاز میں شامل ہے وہی

میری تنہائی کے اعجاز میں شامل ہے وہی رقص میں ہے دل دیوانہ کہ محفل ہے وہی یہ الگ بات نہ وہ تمکنت آرا ہے نہ میں ہے چمن بھی وہی اور شور عنادل ہے وہی وہی لیلائے سخن اب بھی سراپائے طلسم میری جاں اب بھی وہی ہے کہ مرا دل ہے وہی دشت حیرت میں وہی میرا جنوں محو خرام آ کے دیکھو کہ یہاں گرمی ...

مزید پڑھیے

پیاس بڑھتی ہوئی تا حد نظر پانی تھا

پیاس بڑھتی ہوئی تا حد نظر پانی تھا رو بہ رو کیسا عجب منظر حیرانی تھا راستہ بند تھا اور شوق سفر تھا باقی ایک افسانہ جنوں کا تھا جو طولانی تھا ایک خوشبو تھی جو ملبوس پہ تابندہ تھی ایک موسم تھا مرے سر پہ جو طوفانی تھا دم بخود ایک تماشائے فنا تھا ہر سو شور کرتا ہوا اک شوق جہاں بانی ...

مزید پڑھیے

ہزار مرحلے ہوں گے جنوں سے آگے بھی

ہزار مرحلے ہوں گے جنوں سے آگے بھی بسے ہیں شہر کئی سیل خوں سے آگے بھی ہم ایک دن قفس جاں سے باہر آئے تو پہنچ گئے فلک نیلگوں سے آگے بھی بکھر رہی ہیں درون و بروں کی ساری حدیں لگائیں خیمہ درون و بروں سے آگے بھی ہمیں خبر ہوئی یہ شہر سونے والا ہے سو دیکھ آئے بدن کے فسوں سے آگے بھی کبھی ...

مزید پڑھیے

وہی جنوں کی سوختہ جانی وہی فسوں افسانوں کا

وہی جنوں کی سوختہ جانی وہی فسوں افسانوں کا اڑا اڑا سا بجھا بجھا سا رنگ وہی دیوانوں کا دریا تو مانوس ہے اشک لہو کی خود سر موجوں سے دشت تجھے معلوم ہے سارا قصہ ان حیرانوں کا چاہت بھر امید رکھی ہے اور رستوں بھر پا مردی درویشوں کے چال چلن میں رنگ ہے سب سلطانوں کا ابھی نہیں تو آئندہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5460 سے 5858