شاعری

آسماں کی آنکھ سورج چاند بینائی بھی ہے

آسماں کی آنکھ سورج چاند بینائی بھی ہے روشنی میرے لئے کیوں وجہ رسوائی بھی ہے کس کو سینے سے لگاؤں میں کسے اپنا کہوں سیل رنگ و بو جسے کہتے ہیں تنہائی بھی ہے مصلحت اندیشۂ غم کو ذرا کم کر گئی فلسفہ وہ جھوٹ شامل جس میں دانائی بھی ہے زہر آلودہ فضا میں جب کلی سونے لگی اشک شبنم نے کہا ...

مزید پڑھیے

زہر کو مے نہ کہوں مے کو گوارا نہ کہوں

زہر کو مے نہ کہوں مے کو گوارا نہ کہوں روشنی مانگ کے میں خود کو ستارہ نہ کہوں اپنی پلکوں پہ لیے پھرتا ہوں چاہت کے سراب دل کے صحرا کو سمندر کا کنارہ نہ کہوں ہجر کے پھول میں وہ چہرۂ زریں دیکھوں وصل کے خواب کو ملنے کا اشارہ نہ کہوں مرتے مرتے بھی یہ تحریر امانت میری موت کے بعد بھی ...

مزید پڑھیے

جنگل کا سناٹا میرا دشمن ہے

جنگل کا سناٹا میرا دشمن ہے پھیلتا صحرا دیدہ و دل کا دشمن ہے جسم کی اوٹ میں گھات لگائے بیٹھا ہے موسم گل بھی ایک انوکھا دشمن ہے نقش وفا میں رنگ وہی ہے دیکھو تو جس کی دنیا جو دنیا کا دشمن ہے ساحل مرگ پہ رفتہ رفتہ لے آیا تنہائی کا روگ بھی اچھا دشمن ہے چاند میں شاید پیار ملے گا ...

مزید پڑھیے

آپ کہیں تو گلشن ہے

آپ کہیں تو گلشن ہے ورنہ دل اک مدفن ہے آگ لگی ہے سانسوں میں ہائے یہ کیسا ساون ہے ان سے میری بات نہ پوچھ ان سے میری ان بن ہے پنچھی پنچھی سہم گیا دوست یہ اچھا گلشن ہے تاریکی مٹ جائے گی مشعل مشعل روشن ہے وقت کی ہر آواز ظفرؔ میرے دل کی دھڑکن ہے

مزید پڑھیے

وہ پھول جو مسکرا رہا ہے

وہ پھول جو مسکرا رہا ہے شاید مرا دل جلا رہا ہے چھپ کر کوئی دیکھتا ہے مجھ کو آنکھوں میں مگر سما رہا ہے میں چاند کے ساتھ چل رہا ہوں وہ میری ہنسی اڑا رہا ہے شاید کسی دور میں وفا تھی یہ دور تو بے وفا رہا ہے سو رنگ ہیں زندگی کے لیکن انسان فریب کھا رہا ہے تصویر بنے تو مجھ سے کیسے ہر ...

مزید پڑھیے

جب تک جنوں جنوں ہے غم آگہی بھی ہے

جب تک جنوں جنوں ہے غم آگہی بھی ہے یعنی اسیر نغمہ مری بے خودی بھی ہے کھلتے ہیں پھول جن کے تبسم کے واسطے شبنم میں ان کے عکس کی آزردگی بھی ہے کچھ ساعتوں کا رنگ مرے ساتھ ساتھ ہے وہ نکہت بہار مگر اجنبی بھی ہے زندہ ہوں میں کہ آگ جہنم کی بن سکوں فردوس آرزو مرے دل کی کلی بھی ہے اس یاد کا ...

مزید پڑھیے

کیا پتا کس جرم کی کس کو سزا دیتا ہوں میں

کیا پتا کس جرم کی کس کو سزا دیتا ہوں میں رنگ سا اک باندھتا ہوں پھر بھلا دیتا ہوں میں اپنے آگے اب تو میں خود بھی ٹھہر سکتا نہیں سامنا ہوتے ہی چٹکی میں اڑا دیتا ہوں میں معجزہ اگلا تو اب شاید پرانا ہو چلا دیکھنا اب کے کوئی چکر نیا دیتا ہوں میں مجھ سے آگے بھی نکل جانا بہت مشکل ...

مزید پڑھیے

عمر کا آخری دن

یہاں میرے اندر درختوں کی کتنی قطاریں سلگتی رہیں گی وہاں تیرے اندر تڑپتے ہوئے لفظ لمحے پرندے قطاروں میں بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں درختوں کے پیچھے کئی چاند ٹوٹے ہوئے ریزہ ریزہ لہو میں نہائے ہوئے کتنے سورج مزاروں کے کتبے! کہیں ڈھول کی تھاپ پر رقص مرگ مسلسل کہیں دلدلوں میں اترتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

ڈرائنگ روم

تیرا جسم لہو ہے میرا جس کی بوندیں گلدستے کے پھول ہیں دیواروں پر تصویریں ہیں کشتی کشتی ڈول رہی ہے لیپ کے سائے یہ سب میری زنجیریں ہیں جن کو میرے ذہن کا آہن کاٹ رہا ہے کب تک میں زنداں میں بیٹھا آنے والے کل کو مشت خاک سمجھ کر ذرے ذرے کو بھینچوں گا درد کی آواز سے کب تک گیت سنوں ...

مزید پڑھیے

ڈیڈ ہاؤس

حنوط جسموں کے کارخانے میں لاش رکھی ہوئی ہے کس کی سفید کاغذ بدن پہ کس نے ستم کے سب نام لکھ دیے ہیں یہ پھول کل تک سحر کے آنگن میں کھل رہا تھا مگر سیاہی کے تنگ حلقوں میں گھر گیا تھا! کہ خواب زنجیر بن گئے تھے عذاب تعبیر بن گئے تھے کتاب کا گرد پوش جیسے شکستہ ہو کر بکھر گیا ہو یہ کس عبارت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5458 سے 5858