شاعری

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں امیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کی یہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں وہی پریاں ہیں اب بھی راجا اندر کے اکھاڑے میں مگر شہزادۂ گلفام پر شیدا نہیں ہوتیں یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا ...

مزید پڑھیے

معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہے

معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہے نیچر بھی سبق سیکھ لے زینت ہے تو یہ ہے کمرے میں جو ہنستی ہوئی آئی مس رعنا ٹیچر نے کہا علم کی آفت ہے تو یہ ہے یہ بات تو اچھی ہے کہ الفت ہو مسوں سے حور ان کو سمجھتے ہیں قیامت ہے تو یہ ہے پیچیدہ مسائل کے لیے جاتے ہیں انگلینڈ زلفوں میں الجھ آتے ہیں ...

مزید پڑھیے

شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی

شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی پھر تو یاروں نے بھجن گانے کی کھل کر ٹھان لی مدتوں قائم رہیں گی اب دلوں میں گرمیاں میں نے فوٹو لے لیا اس نے نظر پہچان لی رو رہے ہیں دوست میری لاش پر بے اختیار یہ نہیں دریافت کرتے کس نے اس کی جان لی میں تو انجن کی گلے بازی کا قائل ہو گیا رہ گئے ...

مزید پڑھیے

وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے

وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے وہ فلک نہ رہا وہ سماں نہ رہا وہ مکاں نہ رہے وہ مکیں نہ رہے وہ گلوں میں گلوں کی سی بو نہ رہی وہ عزیزوں میں لطف کی خو نہ رہی وہ حسینوں میں رنگ وفا نہ رہا کہیں اور کی کیا وہ ہمیں نہ رہے نہ وہ آن رہی نہ امنگ رہی نہ وہ رندی و زہد کی ...

مزید پڑھیے

رات جب ٹوٹ کر بکھر جائے

رات جب ٹوٹ کر بکھر جائے جاگنے والا پھر کدھر جائے عمر گزری ہے جیسے کانوں سے سرسراتی ہوا گزر جائے اپنی یادیں بھی ساتھ لے جا تو یہ ترا قرض بھی اتر جائے تیز چلنے میں گر نہ جائے کہیں وقت سے بول دو ٹھہر جائے اب تو تو بھی نہیں ہے دھڑکن میں دل کا کیا کام اب وہ مر جائے

مزید پڑھیے

دل مرا سوز نہاں سے عمر بھر بیتاب تھا

دل مرا سوز نہاں سے عمر بھر بیتاب تھا کشتئ دل کا مقدر پر خطر گرداب تھا واں کہ عارض سرخ تھا رنگ طلائے ناب سے یاں وفور اشک سے مژگاں مرا سیماب تھا جیسے کھوجے کافروں میں نکہت ایماں کوئی حاصل حق اس جہاں میں اس قدر نایاب تھا واں کہ اس کو نیند مثل مغفرت حاصل رہی یاں کوئی آزردگی سے تا ...

مزید پڑھیے

جنگ حیات و موت میں کیا کیا نہیں ہوا

جنگ حیات و موت میں کیا کیا نہیں ہوا گزرا ہے درد حد سے پہ چارہ نہیں ہوا میں نے سدا رکھیں یہیں قطروں سی فطرتیں میں آج تک غرور کا دریا نہیں ہوا کیا حادثہ ہے یہ بھی کہ رشتہ ترا مرا بس بیج رہ گیا کبھی پودا نہیں ہوا جب علم نے جہان کو تقسیم کر دیا اچھا ہے لا خرد ہوں میں دانا نہیں ...

مزید پڑھیے

فن جو معیار تک نہیں پہنچا

فن جو معیار تک نہیں پہنچا اپنے شہکار تک نہیں پہنچا پگڑی پیروں میں کیسے میں رکھتا ہاتھ دستار تک نہیں پہنچا کوئی انعام کوئی بھی تمغہ سچے حق دار تک نہیں پہنچا ایسا ہر شخص ہے مسیحا اب جو کبھی دار تک نہیں پہنچا ہر خدا جنتوں میں ہے محدود کوئی سنسار تک نہیں پہنچا چارہ گر سب کے پاس ...

مزید پڑھیے

وہ ماہتاب بھی خوشبو سے بھر گیا ہوگا

وہ ماہتاب بھی خوشبو سے بھر گیا ہوگا جو چاندنی نے تری زلف کو چھوا ہوگا ترے لبوں سے جو نکلا تھا اک تبسم سا مرے لیے تو وہی گیت بن گیا ہوگا لکھا ہے آج ترا نام میں نے کاغذ پر یہ میرا لفظ بھی اترا کے چل رہا ہوگا مری پلک پہ ہے احساس جیسے مخمل سا تمہارا خواب اسے چھو کے چل دیا ہوگا مجھے ...

مزید پڑھیے

سب ہے فانی یہاں سنسار میں کس کا کیا ہے

سب ہے فانی یہاں سنسار میں کس کا کیا ہے فکر پھر بھی ہے تجھے اپنا پرایا کیا ہے آپ کا پہلا ہی انداز بتا دیتا ہے آپ کو آپ کے والد نے سکھایا کیا ہے زندگی خود پہ تو اتنا بھی گماں مت کرنا چند سانسوں کے سوا تیرا اثاثہ کیا ہے پھر سے اک اور لڑائی کے بہانے کے سوا تم بتا دو کہ کسی جنگ سے ملتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5392 سے 5858