یوں ہی ہر بات پہ ہنسنے کا بہانہ آئے
یوں ہی ہر بات پہ ہنسنے کا بہانہ آئے پھر وہ معصوم سا بچپن کا زمانہ آئے کاش لوٹیں مرے پاپا بھی کھلونے لے کر کاش پھر سے مرے ہاتھوں میں خزانہ آئے کاش دنیا کی بھی فطرت ہو مری ماں جیسی جب میں بن بات کے روٹھوں تو منانا آئے ہم کو قدرت ہی سکھا دیتی ہے کتنی باتیں کاش استادوں کو قدرت سا ...