شاعری

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی ہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث سایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت غم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار ...

مزید پڑھیے

ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی

ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی جوش نشاط ہو چکا صوت ہزار ہو چکی رنگ بنفشہ مٹ گیا سنبل تر نہیں رہا صحن چمن میں زینت نقش و نگار ہو چکی مستی لالہ اب کہاں اس کا پیالہ اب کہاں دور طرب گزر گیا آمد یار ہو چکی رت وہ جو تھی بدل گئی آئی بس اور نکل گئی تھی جو ہوا میں نکہت مشک تتار ہو ...

مزید پڑھیے

امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے

امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے جو زندگانی کو تلخ کر دے وہ وقت مجھ پر گزر چکا ہے اگرچہ سینے میں سانس بھی ہے نہیں طبیعت میں جان باقی اجل کو ہے دیر اک نظر کی فلک تو کام اپنا کر چکا ہے غریب خانے کی یہ اداسی یہ نا درستی نہیں قدیمی چہل پہل بھی کبھی یہاں تھی کبھی یہ گھر ...

مزید پڑھیے

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے ارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتے سچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصل تم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولے کیوں ہم کو جلاتے ہو کہ ...

مزید پڑھیے

نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی

نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی زمیں ہماری بدل گئی ہے اگرچہ ہے آسمان باقی شب گزشتہ کے ساز و ساماں کے اب کہاں ہیں نشان باقی زبان شمع سحر پہ حسرت کی رہ گئی داستان باقی جو ذکر آتا ہے آخرت کا تو آپ ہوتے ہیں صاف منکر خدا کی نسبت بھی دیکھتا ہوں یقین رخصت گمان باقی فضول ہے ...

مزید پڑھیے

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں آرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں چاہتا تھا بہت سی باتوں کو مگر افسوس اب وہ جی ہی نہیں جرأت عرض حال کیا ہوتی نظر لطف اس نے کی ہی نہیں اس مصیبت میں دل سے کیا کہتا کوئی ایسی مثال تھی ہی نہیں آپ کیا ...

مزید پڑھیے

اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئے

اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئے گو بت ہیں آپ بہر خدا مان لیجئے دل لے کے کہتے ہیں تری خاطر سے لے لیا الٹا مجھی پہ رکھتے ہیں احسان لیجئے غیروں کو اپنے ہاتھ سے ہنس کر کھلا دیا مجھ سے کبیدہ ہو کے کہا پان لیجئے مرنا قبول ہے مگر الفت نہیں قبول دل تو نہ دوں گا آپ کو میں جان لیجئے حاضر ...

مزید پڑھیے

پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی

پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی یہ وفا کیسی تھی صاحب یہ مروت کیسی دوست احباب سے ہنس بول کے کٹ جائے گی رات رند آزاد ہیں ہم کو شب فرقت کیسی جس حسیں سے ہوئی الفت وہی معشوق اپنا عشق کس چیز کو کہتے ہیں طبیعت کیسی ہے جو قسمت میں وہی ہوگا نہ کچھ کم نہ سوا آرزو کہتے ہیں کس چیز کو حسرت ...

مزید پڑھیے

آہ جو دل سے نکالی جائے گی

آہ جو دل سے نکالی جائے گی کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی اس نزاکت پر یہ شمشیر جفا آپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی کیا غم دنیا کا ڈر مجھ رند کو اور اک بوتل چڑھا لی جائے گی شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیا احتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی یاد ابرو میں ہے اکبرؔ محو یوں کب تری یہ کج خیالی جائے ...

مزید پڑھیے

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں معرفت خالق کی عالم میں بہت دشوار ہے شہر تن میں جب کہ خود اپنا پتا ملتا نہیں غافلوں کے لطف کو کافی ہے دنیاوی خوشی عاقلوں کو بے غم عقبیٰ مزا ملتا نہیں کشتئ دل کی الٰہی بحر ہستی میں ہو خیر ناخدا ملتے ہیں لیکن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5391 سے 5858