دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی ہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث سایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت غم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار ...