وعدہ
رکھ تو لی بات تری اب نہ کبھی بولوں گا اب تصور میں کبھی تجھ کو نہ میں گھولوں گا اب نہ پھر پاؤں کبھی تیری طرف جائیں گے اب نہ ہاتھوں کے ارادے تجھے چھو پائیں گے رکھ تو لی بات تری اب نہ کبھی بولوں گا اب نہ ہونٹوں پہ بلا وجہ ہنسی چھائے گی اب نہ چہرے پہ کوئی شکل اتر پائے گی اب نہ زلفوں ...