پری سفر میں رمق تک نہیں گئی ہوگی
پری سفر میں رمق تک نہیں گئی ہوگی مجھے پتہ ہے دھنک تک نہیں گئی ہوگی یہ آسمان جو معمول کے مطابق ہے زمیں کی چیخ فلک تک نہیں گئی ہوگی نظر میں آتی ہوئی تیرگی خلاؤں بیچ یہ روشنی بھی چمک تک نہیں گئی ہوگی اسے خبر ہے طبیعت ہی میری ایسی ہے مجھے یقیں ہے وہ شک تک نہیں گئی ہوگی یہ لفظ یوں ہی ...