شاعری

تو ہی بتا دے جمال معنی ترا کریں انتظار کب تک

تو ہی بتا دے جمال معنی ترا کریں انتظار کب تک حیات کا اعتبار ہو بھی نگاہ کا اعتبار کب تک جہان ظلم و جفا کے مالک کوئی نہ ہو اشک بار کب تک جو دل ہی مجبور ہو چکا ہو تو آنکھ پر اختیار کب تک ملیں گے دامن سے آ کے آخر مرے گریباں کے تار کب تک کوئی بتائے کہ ہو سکے گا مرا جنوں پختہ کار کب ...

مزید پڑھیے

تجھ سے محو گفتگو ہونا پڑا

تجھ سے محو گفتگو ہونا پڑا میں سے ہجرت کر کے تو ہونا پڑا میں ابھی جی بھر کے جی پایا نہ تھا موت تیرے روبرو ہونا پڑا میں پریشانی میں گھرتا تھا کبھی اور حیراں بھی کبھو ہونا پڑا میری حسرت تھی کبھی تو ماہ وش مجھ کو تیری آرزو ہونا پڑا سامنے لشکر تھا جو وہ حق پہ تھا حق پہ مجھ کو اے عدو ...

مزید پڑھیے

ترے بغیر لگ رہا ہے یہ سفر خموش ہے

ترے بغیر لگ رہا ہے یہ سفر خموش ہے ہوا تھمی ہوئی ہے اور رہ گزر خموش ہے ہیں اپنی اپنی جا پہ دونوں مضطرب کہ کیا کریں تری نگہ میں شور ہے مری نظر خموش ہے تری صدائیں آ نہیں رہی ہیں اس سکوت میں کہ ہونٹ ہل رہے ہیں تیرے تو مگر خموش ہے پکارتا ہوں اپنے آپ کو کہ مر نہ جاؤں میں مگر پکار پر مری ...

مزید پڑھیے

تیز ہے میرا قلم تلوار سے

تیز ہے میرا قلم تلوار سے دوست خائف ہیں مری رفتار سے جیب میں کچھ بھی نہیں تھا اس لئے لوٹ کر میں آ گیا بازار سے جھولیاں بھر بھر کے جاتے ہیں سبھی نوشۂ لجپال کے دربار سے پھر رسائی میں نہیں رہ پایا وہ چاند اوپر ہو گیا دیوار سے آپ غصے میں رہیں اور میرے دوست لوٹ کر سب لے گئے ہیں پیار ...

مزید پڑھیے

نہیں کہ زندہ ہے بس ایک میری ذات میں عشق

نہیں کہ زندہ ہے بس ایک میری ذات میں عشق میں سچ کہوں تو فقط ہے ہی کائنات میں عشق میں عشق زاد چراغوں کی بزم میں رہا ہوں سو جل رہا ہے ابھی میرے دائیں ہات میں عشق وہ حسن نور کی بارش میں جب نہا رہا تھا مچل رہا تھا بہت تب تجلیات میں عشق میں سوچتا ہوں کہ کیا ہوتا دہر میں ہر سو اگر نہ ...

مزید پڑھیے

وہ ترک عشق کا تھا راستہ چلا گیا میں

وہ ترک عشق کا تھا راستہ چلا گیا میں بلا ارادہ ہی جس پر چلا چلا گیا میں وہ شخص یوں ہی کہیں راستے میں مل گیا تھا پلک جھپک کے اسے دیکھتا چلا گیا میں مری حیات میں اک دوسری محبت تھی اسے بھی اور کوئی مل گیا چلا گیا میں خبر نہیں کہ یہاں اور کون ہے موجود پتہ کرو کہ یہیں پر ہوں یا چلا گیا ...

مزید پڑھیے

مسلسل اک مشقت بے سبب ہے

مسلسل اک مشقت بے سبب ہے محبت بھی بہت محنت طلب ہے تمہارا غم ہے رشتہ دار میرا تمہاری یاد ہی میرا نسب ہے تم آ جاتے تو اچھا تھا مگر اب مرے دل میں یہی اک آس کب ہے یوں ہی آتے نہیں احوال تکنے وہ آئے ہیں تو پھر کوئی سبب ہے مرے دالان میں گنجینۂ یاد مروت آشتی افتاد سب ہے میں روشن ہوں ترے ...

مزید پڑھیے

ترے لئے تو مرے پاس بس دعا ہے یار

ترے لئے تو مرے پاس بس دعا ہے یار تو اس زمیں پہ بہت اونچا اڑ رہا ہے یار یہ کھڑکیاں تو مجھے اور کہہ رہی ہیں کچھ سمجھ مرے دل نادان یہ ہوا ہے یار یہ دنیا دار مجھے کس طرح سے دیکھتے ہیں کہ یہ بشر ہے فرشتہ ہے دیوتا ہے یار اگر یہ شوق نہیں ہے تو کیا ہے بتلا دے تو کس لئے مجھے کھڑکی سے ...

مزید پڑھیے

ترے بغیر نہیں دیکھ جھانک کر کوئی

ترے بغیر نہیں دیکھ جھانک کر کوئی یہ دل وہ دل تھا کہ جس کا نہیں تھا در کوئی بتا دے وحشتوں کی فوج کو چلی جائے بتا دے جا کے نہیں یوں بھی آج گھر کوئی میں جا رہا ہوں فصیلو درختو تصویرو سو تم میں تو نہیں ہے میرا ہم سفر کوئی اسے کہو کہ کسی کو تری ضرورت ہے کہو کہ جاگتا رہتا ہے رات بھر ...

مزید پڑھیے

گریز

مرے ہاتھوں میں سورج کی سواری کے سواگت کے لئے گجرے نہیں ہوتے سروں پر حکمراں مہر درخشاں اک قصیدہ میرے لب سے سن نہیں پایا جب ایسا ہے تو کیوں ندیا میں گرتے زرد لمحے کی دعا چاہوں میں اپنی رات کو کیوں چاند کی جھولی میں پھیلا دوں کہ رات آتی نظر آتی ہے جاتی کا پتا تک بھی نہیں چلتا سو حیرت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4399 سے 5858