شاعری

وہ درد دل بھی نہیں چشم خوں فشاں بھی نہیں

وہ درد دل بھی نہیں چشم خوں فشاں بھی نہیں کبھی جو تھا وہ اب انداز گلستاں بھی نہیں علاج درد محبت تو کر نہیں سکتے تمہارے قبضے میں کیا مرگ ناگہاں بھی نہیں وہ اس مقام سے گزرے ہیں دل یہ کہتا ہے جھکا ہے سر کہ جہاں کوئی آستاں بھی نہیں اسی چمن میں کئی بار شعلے بھڑکے ہیں مری نوا کا کوئی ...

مزید پڑھیے

چین پڑتا نہیں ہے سونے میں

چین پڑتا نہیں ہے سونے میں سوئیاں تو نہیں بچھونے میں چہرہ اشکوں سے یوں بھگونے میں کیا سکوں مل رہا ہے رونے میں اک نظر کا سوال ہوتا ہے اختلافات ختم ہونے میں آپ عشرت پسند کیا جانیں وہ جو لذت ہے زخم دھونے میں کون پودے صداقتوں کے لگائے دن لگیں گے درخت ہونے میں ایک مجبور کی ہنسی ...

مزید پڑھیے

کہتے ہیں کہ یوسف کا خریدار تو لاؤ

کہتے ہیں کہ یوسف کا خریدار تو لاؤ اس جنس گراں کو سر بازار تو لاؤ تمثیل جمال نگۂ یار تو لاؤ ممکن ہو جواب لب و رخسار تو لاؤ لو نام نہ یارو کہ بغاوت ہے بڑی شے تم پہلے ذرا جرأت گفتار تو لاؤ اب حسن میں پیدا ہیں پذیرائی کے آثار تم عشق میں کچھ جرأت اظہار تو لاؤ از راہ عقیدت اسے آنکھوں ...

مزید پڑھیے

مقابلہ ہے غم و الم کا تو سامنا رنج و بے کسی کا

مقابلہ ہے غم و الم کا تو سامنا رنج و بے کسی کا رہ محبت میں ہر قدم پر نشان ملتا ہے زندگی کا اسی محبت میں ہم پہ گزرا اک ایسا عالم بھی تیرگی کا بنا لیا آفتاب ہم نے ملا جو ذرہ بھی روشنی کا یکایک اک ہوک دل میں اٹھی پلٹ گیا رنگ زندگی کا بخیر یادش مرے لبوں پر ابھی ابھی نام تھا کسی ...

مزید پڑھیے

دل سے دل کے واسطے پیغام کیسے آ گیا

دل سے دل کے واسطے پیغام کیسے آ گیا میرے ہونٹوں پر تمہارا نام کیسے آ گیا ان کی محفل میں ہمارا نام کیسے آ گیا آج ذکر گردش آیام کیسے آ گیا دل سی شے نے کیسے رسم آرزو کر لی قبول طائر افلاک زیر دام کیسے آ گیا لوگ کہتے ہیں مسرت زندگی کا نام ہے پھر یہ مجھ پر زیست کا الزام کیسے آ گیا عشرت ...

مزید پڑھیے

زمیں سے دور رہے آسماں سے دور رہے

زمیں سے دور رہے آسماں سے دور رہے جو تم تھے پاس تو سارے جہاں سے دور رہے جو اشک غم مژۂ خوں فشاں سے دور رہے فسانہ بن گئے لفظ و بیاں سے دور رہے وہ کیا بتائیں بہاروں کی حشر سامانی جو طائران قفس گلستاں سے دور رہے ستم ظریفیٔ فطرت وہ میر منزل ہیں وہی جو گرد رہ کارواں سے دور رہے گھٹا ...

مزید پڑھیے

بے سبب عشق کب اداس رہا

بے سبب عشق کب اداس رہا وہ تمہارا ادا شناس رہا زندگی بھر خودی کا پاس رہا عشق کب محو التماس رہا ہر فسانہ جو کہہ چکی دنیا میرے غم کا ہی اقتباس رہا جامہ زیبی بقدر ذوق رہی عشق ہر شخص کا لباس رہا تم سے جب قربتیں میسر تھیں دل تو اس وقت بھی اداس رہا غم کا پیمانہ خود بتا دے گا کون کتنا ...

مزید پڑھیے

کیا یہی اس کا مداوا نہ ہوا

کیا یہی اس کا مداوا نہ ہوا ایک بیمار جو اچھا نہ ہوا چار تنکے ہی سہی جل تو گئے کیا مرے دم سے اجالا نہ ہوا ان کی قربت ہی سہی حاصل زیست یہ تو انداز تمنا نہ ہوا ہے تمنائے طلوع خورشید اور اگر پھر بھی سویرا نہ ہوا پرسش غم تو ہوئی تھی لیکن ہم سے اظہار تمنا نہ ہوا لذت درد محبت کے سبب ہم ...

مزید پڑھیے

ہاں مجھے گوارا ہے عشق کا سفر تنہا

ہاں مجھے گوارا ہے عشق کا سفر تنہا اس نے مجھ کو چھوڑا ہے کچھ تو سوچ کر تنہا زیست ہے مگر سونی عشق ہے مگر تنہا چشم سربسر ویراں قلب سربسر تنہا وہ جمال کی تابش جیسے نور کی بارش حسن یار کی یورش اور مری نظر تنہا دل کی ایک اک حسرت چھوڑ کر ہوئی رخصت ہائے رے یہ سناٹا ہائے رے یہ گھر ...

مزید پڑھیے

منور ہو کے کتنی داستان عاشقی آئی

منور ہو کے کتنی داستان عاشقی آئی جہاں تک ذکر غم آیا نظر میں روشنی آئی تری اک اک نظر لے کر پیام زندگی آئی مری جانب سے لیکن کب محبت میں کمی آئی جبین شوق میں جب کوئی شان کافری آئی تو استقبال کرنے ہر قدم پر بندگی آئی یہ جان عاشقی ہے اس کو کس دل سے جدا کر دوں نہ جانے کتنے غم سہہ کر تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4400 سے 5858