شاعری

ایسا کیوں ہے

مالک میرے بھاری پتھر ڈھونے والے بھوکے پیاسے سونے والے چپکے چپکے رونے والے ڈرتے ڈرتے جینے والے تیرے ہی بندے ہیں یا پھر ان کا کوئی اور خدا ہے مالک میرے ایسا کیوں ہے اک جنت کے وعدے پر تو پل پل دوزخ میں رکھتا ہے ایسا کیوں ہے اک روٹی کی خاطر بندہ سب کچھ گروی رکھ دیتا ہے اور اک بندہ سب ...

مزید پڑھیے

شہر بینا کے لوگ

دست شفقت کٹا اور ہوا میں معلق ہوا آنکھ جھپکی تو پلکوں پہ ٹھہری ہوئی خواہشیں دھول میں اٹ گئیں شہر بینا کی سڑکوں پہ نا بینا چلنے لگے ایک نادیدہ تلوار دل میں اترنے لگی پاؤں کی دھول زنجیر بن کر چھنکنے لگی اور قدم سبز رو خاک سے خوف کھانے لگے ذہن میں اجنبی سرزمیں کے خیالات آنے لگے سارے ...

مزید پڑھیے

خواب و تعبیر بے نشاں میں تھا

خواب و تعبیر بے نشاں میں تھا ایک روداد رائیگاں میں تھا دو طرف تھا ہجوم صدیوں کا ایک لمحہ سا درمیاں میں تھا بہتے پانی پہ جس کی تھی بنیاد خام مٹی کا وہ مکاں میں تھا میں وہاں ہوں جہاں نہیں کوئی کچھ نہیں تھا جہاں وہاں میں تھا صورت نقطۂ حباب اعجازؔ محرم بحر بیکراں میں تھا

مزید پڑھیے

یہ جو ہم صورت اشجار میں اگ آتے ہیں

یہ جو ہم صورت اشجار میں اگ آتے ہیں تم سمجھتے ہو کہ بیکار میں اگ آتے ہیں ہم نہیں دیکھتے زرخیز زمینوں کی طرف ہم وہ پودے ہیں جو دیوار میں اگ آتے ہیں جتنی رفتار سے تم کاٹتے جاتے ہو ہمیں پھر سے ہم اتنی ہی مقدار میں اگ آتے ہیں جن کو گلدان میں رکھنا نہیں آیا ہے ہمیں پھول وہ وحشت کہسار ...

مزید پڑھیے

اے میرے شہر عشق ترا کیسا بخت ہے

اے میرے شہر عشق ترا کیسا بخت ہے میں جس کو دیکھتا ہوں وہی لخت لخت ہے خوش ہو رہا ہوں اس لئے مٹی پہ بیٹھ کر یارو یہی زمین مرا پہلا تخت ہے چھاؤں کی جستجو بھی کہاں لے کے آ گئی صحرا سے پوچھتا ہوں کہیں پر درخت ہے دنیا مرے مزاج کو سمجھی نہیں ابھی شاید اسی لئے میرا لہجہ کرخت ہے اک پل میں ...

مزید پڑھیے

طوفان محبت لاکھ اٹھے طوفان سے لیکن حاصل کیا

طوفان محبت لاکھ اٹھے طوفان سے لیکن حاصل کیا جو ڈوب گئی وہ کشتی کیا جو ہاتھ آیا وہ ساحل کیا یہ برق و شرر یہ شمس و قمر دیتے ہیں نشان منزل کیا اے دوست ہمیں ہو سکتا ہے اندازۂ رنگ محفل کیا کیا کہیے کہ درد فرقت سے احساسؔ تڑپتا ہے دل کیا تسکین تو مانا ممکن ہے تسکین سے لیکن حاصل کیا ہم ...

مزید پڑھیے

زندگی چمکے مری مہر درخشاں کی طرح

زندگی چمکے مری مہر درخشاں کی طرح تم اگر ساتھ دو میرا شب ہجراں کی طرح پھر میں خود آپ سے تعبیر محبت پوچھوں آپ آ جائیں کسی خواب پریشاں کی طرح لاکھ قربانیاں اک ذات کی خاطر سے ہوئیں کوئی پتھر بھی نہ پوجا گیا انساں کی طرح اور کیا پیش کروں حاصل ضبط غم عشق چشم گریاں کی طرح چہرۂ خنداں ...

مزید پڑھیے

اب میں پیام فصل بہاراں کو کیا کروں

اب میں پیام فصل بہاراں کو کیا کروں دامن کہاں سے لاؤں گریباں کو کیا کروں تاثیر سوزش غم پنہاں کو کیا کروں رنگ پریدۂ رخ جاناں کو کیا کروں پیدا یہیں سے میرا نشیمن بھی ہو تو جائے بے اعتباریٔ غم زنداں کو کیا کروں تیری نوازشوں نے بکھیرے ہزار گل لیکن میں اپنی تنگئ داماں کو کیا ...

مزید پڑھیے

درد کا درد سے درماں کرتے

درد کا درد سے درماں کرتے یوں علاج غم جاناں کرتے ہم اگر فکر گلستاں کرتے روز دامن کو گریباں کرتے گھر کی ویرانی سے فرصت نہ ملی ورنہ ہم سیر بیاباں کرتے کتنا ارزاں ہے غریبوں کا لہو آپ تو روز چراغاں کرتے دل امنڈ آیا تھا بیٹھے بیٹھے کیسے اندازۂ طوفاں کرتے دل کا خون آنکھ تک آ ہی ...

مزید پڑھیے

اب وہ پہلے سے مہر و ماہ نہیں

اب وہ پہلے سے مہر و ماہ نہیں کوئی آسودۂ نگاہ نہیں جو بھی نکلا تمہاری محفل سے اس کو دنیا میں پھر پناہ نہیں عشق کا درد پھر برا کیا ہے موت لازم ہے اشتباہ نہیں زندگی ہی گناہ جب ٹھہری زندگی میں کوئی گناہ نہیں دشمنوں سے تو ہے حذر ممکن دوستوں سے کہیں پناہ نہیں تم اگر مرکز تمنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4398 سے 5858