ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھی
ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھی طے جو کرنا ہے سفر آگے بھی یوں ہی شمشیروں کو للکارے گا رہ گیا دھڑ پہ جو سر آگے بھی دور تک نام نہیں سائے کا ہیں تو پیچھے بھی شجر آگے بھی کیوں ستم گر کو ستم گر بولو زندہ رہنا ہے اگر آگے بھی روکتا کون سفر کس دل سے تھی مرادوں کی ڈگر آگے بھی دائرے ٹوٹ نہ پائے ...