شاعری

ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھی

ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھی طے جو کرنا ہے سفر آگے بھی یوں ہی شمشیروں کو للکارے گا رہ گیا دھڑ پہ جو سر آگے بھی دور تک نام نہیں سائے کا ہیں تو پیچھے بھی شجر آگے بھی کیوں ستم گر کو ستم گر بولو زندہ رہنا ہے اگر آگے بھی روکتا کون سفر کس دل سے تھی مرادوں کی ڈگر آگے بھی دائرے ٹوٹ نہ پائے ...

مزید پڑھیے

فضائے شام ضیائے سحر اسی سے ملی

فضائے شام ضیائے سحر اسی سے ملی کشش حیات کو المختصر اسی سے ملی اسی سے مجھ کو ملا اشتیاق منزل کا مرے سفر کو فضائے سفر اسی سے ملی بلند مرتبۂ مشت خاک اسی نے کیا تمام فہم و ذکا و نظر اسی سے ملی غرور خود پہ جسے جس قدر بھی ہو لیکن ملی جسے بھی متاع ہنر اسی سے ملی اسی نے ظلمت گم گشتگی کو ...

مزید پڑھیے

بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئی

بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئی یا ہمارے سامنے یادوں کا لشکر تھا کوئی قربتوں کے گھاٹ پر سوکھی ندی ثابت ہوا فاصلوں کے دشت میں گہرا سمندر تھا کوئی اس کی ساری التجائیں حکم ٹھہرائی گئیں جس گھڑی دیکھا گیا جامے سے باہر تھا کوئی دیوتا ہے اب وہی مندر کے آسن پر جما ٹھوکریں کھاتا ...

مزید پڑھیے

سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہو

سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہو آسماں کا رنگ آگے آسمانی ہو نہ ہو خواب میں مجھ کو نظر آتی ہیں بھیگی سیپیاں آنکھ کھلنے پر تری آنکھوں میں پانی ہو نہ ہو ساتھ ہوتی ہے مرے ہر گام پر سنجیدگی ہو رہی ہے دور اب مجھ سے جوانی ہو نہ ہو ہر جگہ نکلے گی تیری بات مجھ کو دیکھ کر تذکرہ تیرا ...

مزید پڑھیے

درخت جاں پر عذاب رت تھی نہ برگ جاگے نہ پھول آئے

درخت جاں پر عذاب رت تھی نہ برگ جاگے نہ پھول آئے بہار وادی سے جتنے پنچھی ادھر کو آئے ملول آئے نشاط منزل نہیں تو ان کو کوئی سا اجر سفر ہی دے دو وہ رہ نورد رہ جنوں جو پہن کے راہوں کی دھول آئے وہ ساری خوشیاں جو اس نے چاہیں اٹھا کے جھولی میں اپنی رکھ لیں ہمارے حصے میں عذر آئے جواز آئے ...

مزید پڑھیے

ان اجڑی بستیوں کا کوئی تو نشاں رہے

ان اجڑی بستیوں کا کوئی تو نشاں رہے چولھے جلیں کہ گھر ہی جلیں پر دھواں رہے نیرو نے بنسری کی نئی تان چھیڑ دی اب روم کا نصیب فقط داستاں رہے پانی سمندروں کا نہ چھلنی سے ماپیے ایسا نہ ہو کہ سارا کیا رائیگاں رہے مجھ کو سپرد خاک کرو اس دعا کے ساتھ آنگن میں پھول کھلتے رہیں اور مکاں ...

مزید پڑھیے

تم ایسا کرنا کہ کوئی جگنو کوئی ستارہ سنبھال رکھنا

تم ایسا کرنا کہ کوئی جگنو کوئی ستارہ سنبھال رکھنا مرے اندھیروں کی فکر چھوڑو بس اپنے گھر کا خیال رکھنا اجاڑ موسم میں ریت دھرتی پہ فصل بوئی تھی چاندنی کی اب اس میں اگنے لگے اندھیرے تو کیسا جی میں ملال رکھنا دیار الفت میں اجنبی کو سفر ہے در پیش ظلمتوں کا کہیں وہ راہوں میں کھو نہ ...

مزید پڑھیے

ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہے

ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہے یہ کون ہے جو مرے گھر کے پاس رہتا ہے یہ اور بات کہ ملتا نہیں کوئی اس سے مگر وہ شخص سراپا سپاس رہتا ہے جہاں پہ ڈوب گیا میری آس کا سورج اسی جگہ وہ ستارہ شناس رہتا ہے گزر رہا ہوں میں سودا گروں کی بستی سے بدن پہ دیکھیے کب تک لباس رہتا ہے لکھی ہے کس نے ...

مزید پڑھیے

اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا

اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا سورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گا فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا پڑتی ہے تو پڑ جائے شکن اس کی جبیں پر سچائی کا اظہار تو کرنا ہی پڑے گا ہر شخص کو آئیں گے نظر رنگ سحر کے خورشید کی کرنوں کو بکھرنا ہی پڑے ...

مزید پڑھیے

حفظ گل کے لئے رکھتے جو نگہباں کچھ اور

حفظ گل کے لئے رکھتے جو نگہباں کچھ اور ہو گیا پھولوں سے محروم گلستاں کچھ اور لٹ کے سہمے ہوئے پودوں نے یہ سرگوشی کی اب نگہبانوں پہ رکھیں گے نگہباں کچھ اور شہر دل کچھ تو سجا لیں کہ بھرم رہ جائے حسن‌ فاتح کو ہیں تاراج کے ارماں کچھ اور وقت ہر سانس کے بدلے میں پسینہ مانگے دل یہ چاہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4392 سے 5858