شاعری

گیان

یہ چٹئیل سرزمیں تم کو ملی تو تم نے بے برگ و گیاہ ٹیلے پر اک معبد بنا ڈالا اور اس میں ایک بت رکھا جسے تم نے تراشا آدمی کے استخواں سے جس کے چرنوں میں چڑھاوا لائے تم تو اپنے بھائی کا اور اس کے ہونٹ اب تک خون کی لالی سے رنگیں ہیں زباں اب تک لہو کے ذائقے سے تر ہے لاؤ اور نذرانہ کہ یہ معبد ...

مزید پڑھیے

خواب کا رقص

کیوں مرے خواب کو دھندلاتے ہو خواب انگڑائی ہے تھرتھراتے ہوئے پاؤں بیتی آوازوں کی لہریں اور بل کھاتا ہوا سیمیں بدن جس کے اک اک انگ میں میرے لہو کی دھڑکن آسمانوں کی طرف اٹھتے ہوئے وہ مرمریں بازو کسی شاہین کی پرواز اور ہاتھوں کی پوروں سے شعاعوں کی پھوار خواب کو انگڑائیوں کی ایک بل ...

مزید پڑھیے

اپنا اپنا رنگ

تو ہے اک تانبے کا تھال جو سورج کی گرمی میں سارا سال تپے کوئی ہلکا نیلا بادل جب اس پر بوندیں برسائے ایک چھناکا ہو اور بوندیں بادل کو اڑ جائیں تانبا جلتا رہے وہ ہے اک بجلی کا تار جس کے اندر تیز اور آتش ناک اک برقی رو دوڑے جو بھی اس کے پاس سے گزرے اس کی جانب کھینچتا جائے اس کے ساتھ چمٹ ...

مزید پڑھیے

ہوا

ہوا کے یہ نقش نیلے ساگر کی اٹھتی موجیں لہکتے پیڑوں کی نرم شاخیں گلوں کے کھلتے مہکتے لب کوہسار کی چوٹیوں پہ یہ برف کے دئے آبشار کا نغمۂ دل نشیں آسماں کے دامن میں بادلوں کے رواں دواں نرم نرم گالے وہ کوک کوئل کی وہ پپیہے کی پی یہ سب نقش ہیں ہوا کے یہ جسم بھی نقش ہے ہوا کا مگر کہاں ہے ...

مزید پڑھیے

حقیقت سے پرے

یہ کائنات ایک آئنہ ہے یہ صاف پانی کی جھیل جس میں میں ڈوب کر حیرت و تحیر بنا سراپا جو لوٹتا ہوں تو زندگی ہے نہ موت ہے اک سرور ہوں بے خودی ہوں سچائی ہوں مجسم

مزید پڑھیے

یادیں

یادیں ناگن ڈس جائیں تو جیون رس میں زہر ملے شاخیں سوکھ کے کانٹا ہوں موت کا سایہ گہرا ہو یادیں کلیاں کھل جائیں تو صحرا صحرا مہک اٹھے ٹہنی ٹہنی پتا پتا امرت رس ٹپکائے جیون کا اجیالا ہو تیری آنکھیں ناگن جیسی تیرے ہونٹ ہیں کلیاں ایک میں موت کا گہرا سایہ ایک میں رس جیون کا

مزید پڑھیے

اپنوں نے اجاڑا ہے چمن جان گئے ہیں

اپنوں نے اجاڑا ہے چمن جان گئے ہیں پردوں میں چھپا کون ہے پہچان گئے ہیں تپتی ہوئی سڑکوں پہ سفر ہم نے کیا ہے اب برف جو دیکھی ہے تو اوسان گئے ہیں وشواس کی گرتی ہوئی دیوار کے سائے قدموں سے کچلتے ہوئے ایمان گئے ہیں مانا کہ دیا اس نے ہمیں رتبۂ عالی جنت سے نکالے بھی تو انسان گئے ...

مزید پڑھیے

زندگی اک آگ ہے وہ آگ جلنا چاہئے

زندگی اک آگ ہے وہ آگ جلنا چاہئے بے حسی اک برف ہے اس کو پگھلنا چاہئے موت بھی ہے زندگی اور موت سے ڈرنا فضول موت سے آنکھیں ملا کر مسکرانا چاہئے ولولے طوفان و آندھی برق و باراں زلزلے ان نئے سانچوں میں ہم کو آج ڈھلنا چاہئے بھوک بیکاری کے شکوے ان سے کرنا ہے فضول ان کے آگے تان کر سینہ ...

مزید پڑھیے

سنگ میل

وہ ایک پتھر وہ سخت کالا سیاہ پتھر لہو سے تر جس کی تیرگی ناگ بن کے ڈستی تھی جس کی سختی سے کوہساروں کے دل دہلتے تھے جس کی خوں تشنگی سے کومل شجر فقط ٹہنیوں کی حسرت کے زاویے تھے وہ ایک پتھر جو تو نے پھینکا مرے سمندر میں حرکت لا زوال کا ایک تازیانہ بنا وہ لہریں اٹھیں کہ خاموش چاندنی کی ...

مزید پڑھیے

تنہائی

صبح کا ہنستا ستارہ تنہا کون جانے رات بھر کس کرب سے گزرا ہے ان گھنے پیڑوں سے لمبے تیز دانتوں والے عفریت نکل کر ٹیڑھی ٹانگوں بد نما پیروں سے کومل چاندنی کے فرش پر ناچے کھردرے ہاتھوں سے پھولوں کے جگر چاک کئے اپنی نظروں کی سیاہی سے نکھرتے ہوئے رنگوں کے چراغوں کو بجھایا اپنے نفرت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4377 سے 5858