شاعری

پربت ترے پہلو میں اگر کھائی نہیں ہے

پربت ترے پہلو میں اگر کھائی نہیں ہے کاہے کی بلندی جہاں گہرائی نہیں ہے اب کوئی وہاں اس لیے ہوتا نہیں رسوا کوچے میں ترے کوئی تماشائی نہیں ہے حضرت جو رواداری نظر آپ میں آئی کیوں آپ کے بچوں میں نظر آئی نہیں ہے دنیا نے تو اس میں بھی کئی نقص نکالے تصویر جو میں نے ابھی بنوائی نہیں ...

مزید پڑھیے

بیٹھ کر ایک ڈال پر فی الحال

بیٹھ کر ایک ڈال پر فی الحال اے پرندے نکال پر فی الحال بات دیکھیں کہاں پہنچتی ہے زور ہے حال چال پر فی الحال دکھ سمجھنا پڑے گا بچے کا پہلا آنسو ہے گال پر فی الحال فکر نان جویں کا غلبہ ہے اپنے ہر اک خیال پر فی الحال ڈھل گیا ہے عروج کا موسم ہے بلندی زوال پر فی الحال اس کی انمول ...

مزید پڑھیے

سیدھے سادھے لوگ تھے پہلے گھر بھی سادہ ہوتا تھا

سیدھے سادھے لوگ تھے پہلے گھر بھی سادہ ہوتا تھا کمرے کم ہوتے تھے اور دالان کشادہ ہوتا تھا دیکھ کے وہ گھر گاؤں والے سوگ منایا کرتے تھے صحن میں جو دیوار اٹھا کر آدھا آدھا ہوتا تھا مستقبل اور حال کے آزاروں کے ساتھ نمٹنے کو چوپالوں میں ماضی کی یادوں کا اعادہ ہوتا تھا دکھ چاہے جس کا ...

مزید پڑھیے

یوں سمایا ہے کہ اب سر سے نکلنے کا نہیں

یوں سمایا ہے کہ اب سر سے نکلنے کا نہیں میں جو چاہوں بھی تو اک ڈر سے نکلنے کا نہیں میں نے جو خوف پرویا تھا رگوں میں اپنی ایسا بیٹھا ہے کہ اندر سے نکلنے کا نہیں بعد کوشش کے نتیجہ یہ نکالا میں نے زندگی میں ترے چکر سے نکلنے کا نہیں کھینچ لاتے ہیں حقیقت میں حوادث ورنہ آدمی خواب کے ...

مزید پڑھیے

چپ

تو نے سرد ہواؤں کی زباں سیکھی ہے تیرے ٹھنڈے لمس سے دھڑکنیں یخ بستہ ہوئیں اور میں چپ ہوں میں نے وقت صبح چڑیوں کی سریلی چہچہاہٹ کو سنا ہے اور میرے ذہن کے ساگر میں نغمے بلبلے بن کر اٹھے ہیں تیرے کڑوے بول سے ہر سو ہیں آوازوں کے لاشے اور میں چپ ہوں میں نے وہ معصوم پیارے گل بدن دیکھے ...

مزید پڑھیے

باپ

وہ ایک پل تھا مرے اور اجداد کے زمانوں کا نقطۂ اتصال اس کی گزر گاہوں سے روایتوں اور حکایتوں کے ہزارہا قافلے نکل کر نئے زمانے کی یورشوں سے مری بکھرتی انا میں الفت یقین اور اعتماد کے رنگ بھر گئے ہیں وہ ایک پل آج ٹوٹ کر گہری گھاٹیوں میں گرا ہے اب میں کھڑا ہوں ان گہری گھاٹیوں پر میں ...

مزید پڑھیے

پانی

پانی پانی ہر سو پانی پانی بے ہیئت بے صورت ساغر میں ساغر بن جائے پھولوں پر یہ شبنم آنکھوں میں یہ آنسو اڑ جائے تو بادل بہہ جائے تو دریا پھیلے تو اک ساگر پانی بے ہیئت بے صورت پانی دیوتاؤں کا ایک مقدس رس ہے زیست کا بہتا دھارا چاندی کی کشتی کا جھولا میں بھی پانی ندی بن کر بہتا جاؤں سخت ...

مزید پڑھیے

احیا

عصائے موسیٰ اندھیری راتوں کی ایک تجسیم منجمد جس میں حال اک نقطۂ سکونی نہ کوئی حرکت نہ کوئی رفتار جب آسمانوں سے آگ برسی تو برف پگھلی دھواں سا نکلا عصا میں حرکت ہوئی تو محبوس ناگ نکلا وہ ایک سیال لمحہ جو منجمد پڑا تھا بڑھا جھپٹ کر خزاں رسیدہ شجر کی سب خشک ٹہنیوں کو نگل گیا

مزید پڑھیے

ایک احساس

اجاڑ سڑکوں کی دونوں جانب گھنے درختوں کے لمبے سائے تلے زمانے کی دھوپ سے تپتے دن گزارے گھنیری زلفوں کی ٹھنڈی چھاؤں تلے جوانی کی گرم جلتی دوپہریں کاٹیں گھنے درختوں کا سایہ قائم گھنیری زلفوں کی چھاؤں دائم مگر مرے سر سے ڈھل چکی ہے

مزید پڑھیے

حرف

وادی وادی صحرا صحرا پھرتا رہا میں دیوانہ کوہ ملا تو دریا بن کر اس کا سینہ چیر کے گزرا صحراؤں کی تند ہواؤں میں لالہ بن کر جلتا رہا دھرتی کی آغوش ملی تو پودا بن کر پھوٹا جب آکاش سے نظریں ملیں تو طائر بن کے اڑا غاروں کے اندھیاروں میں میں چاند بنا اور آکاش پہ سورج بن کر چمکا پھر بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4376 سے 5858