شاعری

تصویر نا مکمل اک تشنگی کا خاکہ (ردیف .. ا)

تصویر نا مکمل اک تشنگی کا خاکہ پر پھڑپھڑا رہا ہے عنقا مری صدا کا سب کیوں دکھا رہے ہیں موہوم سی خراشیں پوچھا تھا صرف میں نے بیمار سے دوا کا دیوانگی نہیں جو چھو چھو کے دیکھتا ہوں آنکھیں ہی اب ملی ہیں اندھا تھا میں سدا کا ہاتھوں کو جانے کب سے بس دھوئے جا رہا ہوں سادہ سے کینوس پر ...

مزید پڑھیے

گو تار عنکبوت آیا نہیں اب تک گمانوں میں

گو تار عنکبوت آیا نہیں اب تک گمانوں میں مگر کچھ مکڑیوں کی سرسراہٹ سی ہے کانوں میں زمیں زادوں کو اب مٹی سے تو وابستہ رہنے دو خدارا فصل نو کا ذوق رہنے دو کسانوں میں سروں سے آسماں بھی کیا ہٹایا جانے والا ہے شبیہیں مہر و مہ کی ٹانکتے ہو کیوں مکانوں میں ذرا ٹھہرو اگے گی بھوک بھی ...

مزید پڑھیے

مری آنکھوں سے دیکھو

اک روز اپنے آپ کو میں نے خلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھا تو وحشت میں پلٹ آیا کہیں پر دور اک نقطہ سا روشن تھا اور اس نقطے میں اک ذرہ نظر آیا زمیں کہیے زماں کہیے کہ اپنا آسماں کہیے سبھی کچھ اس میں گم پایا وہی ذرہ کہ جس کی وسعتوں کو بانٹ کر ہم نے کئی خطے بنا ڈالے اور ان خطوں میں ہم نے ...

مزید پڑھیے

وقت کی باڑھ

جھلملوں کی آڑ میں رقصاں درد کی آندھی شور مچا کر پانی کی دیوار اٹھا کر وقت کی سرحد توڑ رہی ہے پانی کی دیوار میں قطرہ قطرہ روزن کھول رہی ہے آنکھیں اپنے ہاتھ بڑھائے روزن کے اس پار کھلی ہیں عکس کی تہ میں عکس کو چھو کر دیکھ رہی ہیں بھیگے چہرے جسموں کی محتاط فصیلوں پر چپکے بے خود ...

مزید پڑھیے

سوختہ جسم کا لباس

لباس جل کر مرے بدن پر چپک گیا ہے بدن مسلسل سلگ رہا ہے کہیں کہیں بھولے بھٹکے شعلے اٹھا کے لو سر کی اب بھی باہر کو جھولتے ہیں جنہیں میں اپنی جلی ہتھیلی کی پشت سے خود دبا رہا ہوں الاؤ سے باہر آ کے دہشت زدہ نگاہوں سے دیکھتا ہوں کہیں سے اب ایمبولنس آئے گی میری جانب کوئی مسیحا نفس ...

مزید پڑھیے

خواب کے آخری حصے میں

جسم بے جان ہے پتھر سی بنی ہیں آنکھیں اور اک خوف کا ملبوس پہن کر کوئی گھورتا رہتا ہے ہر وقت خلا میں شاید آئینہ خانوں کی مقہور نما چاہت میں عکس در عکس بکھرتی ہوئی پرچھائیاں ہیں اور سناٹوں کی گمبھیر صدا ہے ہر سو شاخ در شاخ خزاں نوحہ کناں ہے ہر سو ایسے ماحول میں جینا بھی ہے خواب کے ...

مزید پڑھیے

مقفل چپ

میں کہ گفتار کا ماہر تھا جہاں دیدہ تھا لوگ سنتے تھے مری اور سناتے بھی تھے اپنے دکھ درد میں ڈوبی ہوئی ساری باتیں مسئلہ کون سا ایسا تھا جسے حل نہ کیا آج بھی بھیڑ تھی لوگوں کی مرے چاروں طرف میں نے ہر ایک کو باتوں میں سکوں یاب کیا پھر کوئی دور سے دیتا ہے صدا کون ہو تم آئے ہو کون سی ...

مزید پڑھیے

ہم زاد

جو چلتا ہے تو قدموں کی کوئی آہٹ نہیں ہوتی تلاش فرق نیک و بد کی خواہش کو لیے دل میں گزرتا ہے غبار زیست کی گم نام گلیوں سے دھندلکا سا کوئی ہے یا کوئی بے خواب سی شب ہے کوئی بے نور رستہ ہے کہ جس میں کھو گیا ہوں میں کوئی آواز ہے جو اک دریدہ پیرہن پہنے ہجوم بے سر و پا میں کئی صدیوں سے رہتی ...

مزید پڑھیے

خاموشی کا شور

بادلوں کے خون سے چپکی ہوئی اس شام میں اڑ رہے تھے کچھ پرندے لڑکھڑاتی آہٹوں کے کارواں کے ساتھ میں شہر گردی میں رہا گھر کا رستہ یاد آتا ہی نہ تھا کس قدر میں ڈر گیا تھا نیند کی خاموشیوں کے شور سے

مزید پڑھیے

پہچان

کسی بھی موڑ پہ رک کر جو پیچھے دیکھا ہے تو ایک یاد ملی آنسوؤں میں بھیگی ہوئی تو ایک رات ملی سوگوار سہمی ہوئی تو ایک خواب ملا در بدر بھٹکتا ہوا اور ایک جسم ملا جس کے سر کے بالوں میں گزرتے وقت نے لمحوں کی راکھ ڈالی ہے وہ جسم میرا نہیں ہے تو پھر وہ کس کا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4346 سے 5858