شاعری

ہمیں تو ساحل دریا کی پیاس ہونا تھا

ہمیں تو ساحل دریا کی پیاس ہونا تھا سکوت ہجر کا اک غم شناس ہونا تھا کھلا ہے اس طرح اب کے نئی رتوں کا بھرم زمیں کو اتنا کہاں بے لباس ہونا تھا انہیں بھی وقت نے پتھر بنا دیا جن کو ہمارے عہد کا آدم شناس ہونا تھا پہن کے مجھ کو ایک روز تمنا کا لباس لہو لہو کوئی تصویر یاس ہونا تھا بھٹک ...

مزید پڑھیے

اسے معلوم ہے سب کچھ وہی ہے رازداں اپنا

اسے معلوم ہے سب کچھ وہی ہے رازداں اپنا مگر مجھ سے ہی سننا چاہتا ہے وہ بیاں اپنا یہاں پر شان جاتی ہے وہاں پر جان جاتی ہے زمیں چھوٹی تو لگتا ہے کہ چھوٹا آسماں اپنا جو گزرا ہے سو گزرا ہے جو آئے گا سو آئے گا جو اب ہے وہ بھلا کب ہے کوئی لمحہ کہاں اپنا میں جس کے دل میں رہتا ہوں میں جس کی ...

مزید پڑھیے

دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیں

دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیں ہم اپنے ہی خوف کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں دیکھوں تو آئینے کا زنگار سلگتا ہے بند کروں تو آنکھوں کے انگارے جاتے ہیں ڈھونڈ رہے ہیں کب سے اپنے لہجے کا تریاک لفظ ہمارے ہم پر ہی پھنکارے جاتے ہیں نئے پرندے نئی اڑانیں نئی سحر کے گیت بیداروں پر روشن ...

مزید پڑھیے

جسے کل رات بھر پوجا گیا تھا

جسے کل رات بھر پوجا گیا تھا وہ بت کیوں صبح کو ٹوٹا ہوا تھا اگر سچ کی حقیقت اب کھلی ہے تو جو اب تک نظر آیا تھا کیا تھا اگر یہ تلخیوں کی ابتدا ہے تو اب تک کون سا امرت پیا تھا کھلا ہے مجھ پہ اب دنیا کا مطلب مگر یہ راز پہلے بھی کھلا تھا میں جس میں ہوں یہ دنیا مختلف ہے جہاں میں تھا وہ ...

مزید پڑھیے

تری تلخی کو چکھوں یا ترے حسن معانی کو

تری تلخی کو چکھوں یا ترے حسن معانی کو کتاب زندگی کس نے لکھا میری کہانی کو تو سر تا پا کوئی فتنہ بھی ہے شہکار فطرت بھی مگر میں زندگی کے نام کر آیا جوانی کو یہ کرنیں پھوٹتی ہیں جو ترے چاک گریباں سے انہی کے نور سے لکھا گیا میری کہانی کو یہ کب جانا کسی نے اے مجسم راز تو کیا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

کٹ گئیں جب جوش اظہار ہنر میں انگلیاں

کٹ گئیں جب جوش اظہار ہنر میں انگلیاں تب کہیں ڈوبیں مرے خون جگر میں انگلیاں دیکھیے انجام کیا ہو اب وفا کی راہ پر ہم پہ تو اٹھی ہیں آغاز سفر میں انگلیاں آخر شب میں دیا خود کو بنایا تھا کبھی آج بھی جلتی ہیں امید سحر میں انگلیاں لکھ رہی ہیں ریگ ساحل پر انوکھی خواہشیں آ گئی ہیں تیری ...

مزید پڑھیے

بھری ہے آگ جیبوں میں کف افسوس ملتے ہیں

بھری ہے آگ جیبوں میں کف افسوس ملتے ہیں ہماری ہی کمائی سے ہمارے ہاتھ جلتے ہیں مرے اطراف میں یہ کھینچا تانی کم نہیں ہوتی ادھر پہلو بدلتا ہوں ادھر جالے بدلتے ہیں کسی کو بھی وہ انگارہ دکھائی ہی نہیں دیتا اشارے سے بتاتا ہوں تو اپنے ہاتھ جلتے ہیں میں اپنے جسم سے باہر ہوں یا روحوں کا ...

مزید پڑھیے

اک ہاتھ پہ آنکھیں رکھی ہیں اک ہاتھ پہ چہرا ہوتا ہے

اک ہاتھ پہ آنکھیں رکھی ہیں اک ہاتھ پہ چہرا ہوتا ہے ہر گام مداری بیٹھے ہیں ہر وقت تماشا ہوتا ہے اب کون یہاں مجذوب نہیں بازار میں کیا موجود نہیں عرفان کی مالا بکتی ہے الہام کا سودا ہوتا ہے اپنی خلوت میں دھیان کہاں خاموشی ہے وجدان کہاں اک آندھی خاک اڑاتی ہے اک آگ کا دریا ہوتا ...

مزید پڑھیے

اب کسی تصویر کی رعنائیاں باتیں کریں

اب کسی تصویر کی رعنائیاں باتیں کریں میں تو چپ ہوں اب مری تنہائیاں باتیں کریں اتنی دیواروں میں اک دیوار ہی سمجھا مجھے آ کے میرے سائے میں پرچھائیاں باتیں کریں روکنا بھی ناروا ہے ٹوکنا بھی ناگوار کان تب ہوتے ہیں جب رسوائیاں باتیں کریں خود کلامی کا فسوں تنہائیوں کی گفتگو اس سے ...

مزید پڑھیے

یہ منتر بھی پرانے جام جم بھی

یہ منتر بھی پرانے جام جم بھی بہت دیکھے ہیں یہ نقش قدم بھی یہ ناٹک ہو رہے ہیں مدتوں سے کہاں تک تالیاں پیٹیں گے ہم بھی نئے سجدے نئی ہیں سجدہ گاہیں رکھے جائیں گے بوسیدہ صنم بھی ابھی پردے اٹھیں گے دیکھ لینا نظر آئیں گے پس منظر میں ہم بھی

مزید پڑھیے
صفحہ 4345 سے 5858