شاعری

دل کے قرطاس پہ اک لفظ محبت لکھنا

دل کے قرطاس پہ اک لفظ محبت لکھنا جو کبھی عشق میں کی تھی وہ ریاضت لکھنا لکھنے بیٹھو جو کبھی دل کی حکایت کوئی نام اس میں مرا تم حسب روایت لکھنا پنکھڑی پھول کی لب آنکھ ہے گہرا ساگر ابرو ہیں تیغ سے اور چال قیامت لکھنا بھولنے والے اگر یاد کبھی آ جاؤں بھیگی پلکوں سے فقط اشک ندامت ...

مزید پڑھیے

کچھ روز چاہتوں کا عجب سلسلہ رہا

کچھ روز چاہتوں کا عجب سلسلہ رہا وہ دھڑکنوں میں پیار کی صورت بسا رہا اک شخص جس کو دل سے بھلایا تھا بار بار یہ دل کہ پھر بھی اس کو سدا سوچتا رہا جس کے جنوں میں ہم نے بتا دی تمام عمر یہ کیا کہ عمر بھر ہی وہ ہم سے خفا رہا یہ سچ ہے مجھ سے ہاتھ چھڑا کر وہ جا چکا جاتا اسے میں دور تلک ...

مزید پڑھیے

ذات جب بھی اڑان تک پہنچی

ذات جب بھی اڑان تک پہنچی وسعت لا مکان تک پہنچی جب حقیقت گمان تک پہنچی اک نئے امتحان تک پہنچی بات پھیلائی تھی جو دشمن نے دیکھو وہ مہربان تک پہنچی کشتیاں سب جلا کے آئی تھی جب وہ تیرے مکان تک پہنچی اک ترا نام کیا لیا ہم نے بات تیر و کمان تک پہنچی رازداں سے کہی تھی چپکے سے بات ...

مزید پڑھیے

بن پئے اک خمار تھا کیا تھا

بن پئے اک خمار تھا کیا تھا تیرا چہرہ بہار تھا کیا تھا وہ رہ عشق میں جنوں اپنا دل جو تجھ پر نثار تھا کیا تھا وہ مرا وہم یا حقیقت تھی تیری نظروں میں پیار تھا کیا تھا بزم میں تیری مہرباں تھے بہت میرا ان میں شمار تھا کیا تھا وقت رخصت کسی کی آنکھوں میں چھایا کیسا غبار تھا کیا ...

مزید پڑھیے

ہو سکے تو مجھے اک شام عنایت کرنا

ہو سکے تو مجھے اک شام عنایت کرنا برپا اس دل پہ مری جان قیامت کرنا پھر تری یاد میں رقصاں ہے مری وحشت دل کتنا مشکل ہے تری یاد کو رخصت کرنا ایسا ٹوٹا ہے تغافل پہ کسی کے یہ دل ہم سے رو رو کے کہے اب نہ محبت کرنا پیار کے نام پہ بے مول ہی بک جاتے ہیں ہم کو آتا نہیں جذبوں کی تجارت کرنا ہے ...

مزید پڑھیے

دے گئے زخم مرے چاہنے والے مجھ کو

دے گئے زخم مرے چاہنے والے مجھ کو آج تنہا ہوں بہت کوئی سنبھالے مجھ کو ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا بھی بہت کوئی ایسا ہو کہ آ کر جو بچا لے مجھ کو وہ جو کہتے تھے کہ جیون کی خوشی ہو تم ہی کر گئے آج وہی غم کے حوالے مجھ کو دل صد چاک کو وہ خار سے کرتا ہے رفو ہائے یہ بخیہ گری مار نہ ڈالے مجھ ...

مزید پڑھیے

سب کھیل تماشا ختم ہوا

جب شام کی پلکیں تھرائیں یادوں کی آنکھیں بھر آئیں ہر لہر میں ایک سمندر تھا جو دل کو بہا لے جاتا تھا ساحل سے دور جزیروں پر دل بہتے بہتے ڈوب گیا پھر رات ہوئی پھر ہوا میں آنسو گھلنے لگے پھر خوابوں کی محرابوں میں میں گھر کا رستہ بھول گیا پھر سانس سے پہلے موت آئی اور کھیل تماشا ختم ...

مزید پڑھیے

زندگی سے مکالمہ

زندگی ہو گئی ہے بے ترتیب اب ٹھکانے پہ کوئی چیز نہیں کچھ یہاں تھا مگر یہاں کب ہے کچھ وہاں ہے مگر وہاں کب ہے اب سر جلوہ گاہ کوئی نہیں جو بھی ہے رونما گماں ہی تو ہے ''ہونا'' ہونے کا اک نشاں ہی تو ہے شام میں گھل گیا ہے خواب کا رنگ دل میں کوئی دیا جلے نہ جلے خواب اپنے کمال کو پہنچا کسی ...

مزید پڑھیے

ہمارے شجرے بکھر گئے ہیں

گماں کی بے رنگ ساعتوں میں نواح کرب و بلا سے دربار شام تک ہم لہو کی اک ایک بوند کا سب خراج دے کر تمام قرضے چکاتے آئے شکستہ دہلیز لہو کی محراب سناں کا منبر ہماری عزت بڑھاتے آئے وہ ہم ہی تھے جو قیام کرتے رکوع میں جھکتے زکوٰۃ دے کر خود اپنے حصے کا طعام دے کر درود و صلوٰۃ پڑھتے آئے وہ ہم ...

مزید پڑھیے

راہداری میں گونجتی نظم

بارہ دری میں چاند سر شام ہو گیا رہ داریوں کے پردے اڑاتی رہی ہوا مشعل تلے غلام کی تلوار کھو گئی برجی پہ جب ستارہ گرا رات تھی بہت اور شاہ وقت اپنے ہی نشے میں مست تھا پشواز نیچے دائرہ اس کو نہیں ملا بارہ دری میں آگ لگی تھی لگی رہی اور بانسری کے نے کہیں خاموش رہ گئی اور چاند شاہزادی کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4320 سے 5858