شاعری

ولولے جب ہوا کے بیٹھ گئے

ولولے جب ہوا کے بیٹھ گئے ہم بھی شمعیں بجھا کے بیٹھ گئے وقت آیا جو تیر کھانے کا مشورے دور جا کے بیٹھ گئے عید کے روز ہم پھٹی چادر پچھلی صف میں بچھا کے بیٹھ گئے کوئی بارات ہی نہیں آئی رت جگے گا بجا کے بیٹھ گئے ناؤ ٹوٹی تو سارے پردہ نشیں سامنے نا خدا کے بیٹھ گئے بے زبانی میں اور ...

مزید پڑھیے

وفا داری غنیمت ہو گئی کیا

وفا داری غنیمت ہو گئی کیا محبت بھی مروت ہو گئی کیا عدالت فرش مقتل دھو رہی ہے اصولوں کی شہادت ہو گئی کیا ذرا ایمان داری سے بتاؤ ہمیں تم سے محبت ہو گئی کیا فرشتوں جیسی صورت کیوں بنا لی کوئی ہم سے شرارت ہو گئی کیا کتابت روکنے کا کیا سبب ہے کہانی کی اشاعت ہو گئی کیا مزار پیر سے ...

مزید پڑھیے

آہستہ سے گزرو

گزرنا ہی اگر ٹھہرا تو آہستہ سے گزرو کوئی آہٹ نہ ہو پائے ابھی رستے میں رستہ سو رہا ہے ابھی ویرانی کے پہلو میں خوابیدہ ہے خاموشی ابھی تنہائی سے لپٹی مسافت سو رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو دشت تحیر جاگ جائے لہو میں بے کراں غم کا سمندر جاگ جائے ابھی تو پہلے ڈر ہی سے رگوں میں خامشی ہے ابھی تو ...

مزید پڑھیے

حادثہ

رات ہی رات میں راستے شہر سے جنگلوں کو مڑے نیند گم ہو گئی خوب صورت حسیں خوب رو لڑکیاں عورتیں بن گئیں بہتے پانی میں ان کو بہایا گیا خواب زادے ہوئے داستانوں میں گم رات ہی رات میں اژدھے نوجوانوں کا دل کھا گئے نیٹی جیٹی پہ سب لاپتہ ہو گئے آن کی آن میں شہر کیسے مٹا خواب کیسے جلا

مزید پڑھیے

دیر ہو گئی

عالم پناہ خیر سے بے دار ہو گئے عالم پناہ!.... خیر..... کہاں آپ چل دیے رستے تمام بند ہوئے دیر ہو گئی اور کیسی دوپہر میں گھنی رات ہو گئی فانوس جھاڑ قمقمے روشن نہیں ہوئے اور طاقچوں میں باقی نہیں کوئی بھی چراغ اور بیگمات حجرے سے باہر نکل پڑیں اور شاہزادیوں کے سروں پر نہیں ردا یہ رنگ و ...

مزید پڑھیے

اب تو کچھ بھی یاد نہیں

کتنے منظر ٹوٹ کے گرتے رہتے ہیں ان آنکھوں سے یخ بستہ پاتالوں میں کتنے دکھ ہر لمحہ لپٹے رہتے ہیں اجلے پاؤں کے چھالوں سے کن یادوں کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں ہم ذہنوں میں جو باقی نہیں حوالوں میں چاندنی جیسے کتنے ہی جسم ڈوبتے ڈوبتے چیخ رہے تھے مٹی کے کچے پیالوں میں اور اب تو کچھ ایسا ...

مزید پڑھیے

زمیں خواب خوشبو

منڈیروں سے جب دھوپ اتری ابھی رات جاگی نہیں تھی ابھی خواب کا چاند صحرا میں سویا ہوا تھا سمندر کے بالوں میں چاندی چمکتی نہیں تھی کسی طاق میں بھی دیئے کی کوئی لو بھڑکتی نہیں تھی فضاؤں میں گیتوں کی مہکار تھی پرندے ابھی آشیانوں کو بھولے نہیں تھے وہ سپنوں میں کھوئی ہوئی تھی زمانے پہ ...

مزید پڑھیے

مل کے اک بار اسے یاد نہیں ہونے کے

مل کے اک بار اسے یاد نہیں ہونے کے دل کے اجڑے نگر آباد نہیں ہونے کے اب نئے ظلم تو ایجاد نہیں ہونے کے صاحبا ہم کوئی فریاد نہیں ہونے کے سچے عشاق تو ناپید ہوئے دنیا میں اب کوئی شیریں و فرہاد نہیں ہونے کے دل میں ٹھانی ہے بھلا دیں تمہیں دھیرے دھیرے اور اس عشق میں برباد نہیں ہونے ...

مزید پڑھیے

ویران سا اب ہوں جو میں ایسا تو نہیں تھا

ویران سا اب ہوں جو میں ایسا تو نہیں تھا ہوتا تھا سمندر کبھی صحرا تو نہیں تھا چہرے پہ رقم تھا جو وہ پڑھ ہی نہیں پایا سب جانتا تھا اتنا بھی سادہ تو نہیں تھا آنگن میں مرے دل کے چلی آئی تھی کل شام تھی یاد تمہاری کوئی جھونکا تو نہیں تھا چپ چاپ تصور میں چلے آتے کسی روز سوچوں پہ میری ...

مزید پڑھیے

گزری تھی ایک بار جو دل کی گلی سے میں

گزری تھی ایک بار جو دل کی گلی سے میں دو چار آج بھی ہوں اسی بے کلی سے میں بیزار اس قدر ہوں غم عاشقی سے میں مجھ سے ذرا خفا ہے خوشی اور خوشی سے میں نکلی ہوں جب سے ڈھونڈنے بے لوث چاہتیں دھوکا ہی کھا رہی ہوں بڑی سادگی سے میں معدوم اس کی آنکھ سے پہچان ہو گئی جیسے کہ مل رہی تھی کسی اجنبی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4319 سے 5858