خودکشی کے پل پر
خودکشی کے پل پر سمندر کی لہروں میں بہتی فسردہ و ناکام جسموں کی روحیں بلاتی ہیں مجھ کو چلے آؤ ہر غم سے دامن چھڑا لو مٹا دو فنا ہونے والے بدن کو مٹا دو فنا سے نہ ڈرنا یہی اصل میں زندگی ہے اسی میں حقیقی خوشی ہے سمندر کی لہروں میں سیال روحوں کے گیتوں میں بے حد کشش ہے یہ دل چاہتا ہے کہ ...