شاعری

خودکشی کے پل پر

خودکشی کے پل پر سمندر کی لہروں میں بہتی فسردہ و ناکام جسموں کی روحیں بلاتی ہیں مجھ کو چلے آؤ ہر غم سے دامن چھڑا لو مٹا دو فنا ہونے والے بدن کو مٹا دو فنا سے نہ ڈرنا یہی اصل میں زندگی ہے اسی میں حقیقی خوشی ہے سمندر کی لہروں میں سیال روحوں کے گیتوں میں بے حد کشش ہے یہ دل چاہتا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

علی بابا کوئی سم سم

علی بابا یہ عجلت ہمتوں کو پست کرتی ہے محبت راستے میں موت کو تجویز کرتی ہے ہوس تیری گھنے جنگل سے چوروں کو مری بستی میں لے آئی وہ چالیس چور..... بستی کے گلی کوچوں میں اب مقتل سجاتے ہیں علی بابا خزانہ پانے کی عجلت ترے ماضی کی محرومی کا ابتر شاخسانہ ہے یہ تیری بد نصیبی سے بھی بد تر اک ...

مزید پڑھیے

صبر کی چادر تہہ کر دی

کوئی آگ پئے کہ زہر پئے یا سانپ ڈسے کی موت مرے اب دھوپ کے جل تھل دریا سے کوئی اپنے منہ میں ریت بھرے ہم نے تو پیالہ الٹ دیا اور الٹ دیا ہر اک منظر جب شام کی آنکھیں خون ہوئیں اور بودلہ بوٹی بوٹی تھی یہ بستی ظلم کی ظلمت میں تب کچی دھوپ چباتی تھی اور دریا پیتی جاتی تھی مسواک زمین میں گاڑ ...

مزید پڑھیے

آئینہ دیکھتے ہو

اس کے آداب تو پہلے سیکھو خاک میں خون رگ جاں تو ملا کر دیکھو آنکھ دریا تو بنا کر دیکھو شام کی ٹھنڈی ہوا راستوں کو دے گی بوسے خواب آنکھوں میں سمندر کا اتر آئے گا رنگ میں رنگ ملیں گے گیت پھر چھیڑیں گے دریا کے کنارے اشجار آئینہ دیکھتے ہو سطح دریا پہ جہاں کائی بنے آئینہ چاندنی جھیل کی ...

مزید پڑھیے

قصہ تمام

خاک میں خاک ملی اور ہوا قصہ تمام آگ میں آگ ملے تو بھڑکے آب میں آب ملے تو مچلے خاک میں خاک ملے اور ہو سب قصہ تمام جیسے سائے پہ گرا ہو سایہ جیسے چھا جائے شام گرم پر شور سے دن کا یہ بھیانک انجام وقت بے رحم غضب ناک بلا کا سفاک وقت وہ سیل رواں جس کے آگے جو چلے وہ بھی مرے جس سے پیچھے جو رہے ...

مزید پڑھیے

شب گردوں کے لیے اک نظم

رات ہے بردہ فروش اس کے بہکائے ہوئے ہوش میں کب آئے ہیں اپنے آنچل کے ستارے بھی جو نیلام کرے اس کی بانہوں میں جو بہکا ہے وہ سنبھلا ہی نہیں اس کی باتوں میں جو آیا وہ کبھی سویا نہیں جس کے پیکر کو ہوا نے بھی کبھی مس نہ کیا رات پرکار فسوں زار اور آشفتہ مزاج جس کی آنکھوں کو کسی خواب نے بوسہ ...

مزید پڑھیے

بے بسی گیت بنتی رہتی ہے

خواب گرمی کی چھٹیوں پہ گئے ہو گئے بند گیٹ آنکھوں کے عشق کو داخلہ ملا ہی نہیں خواہشیں لاکروں میں قید رہیں جو بکے اس کے دام اچھے ہوں زندگی ہو کہ کوئی تتلی ہو بے ثباتی کے رنگ کچے ہیں کون بتلائے ان زمینوں کو جنگلوں کے گھنے درختوں میں گر خزاں بیلے ڈانس کرتی ہو مصر کو کون یاد کرتا ہے کم ...

مزید پڑھیے

اور خدا خاموش تھا

ایک بوسے کی طلب میں جسم کبڑے ہو گئے زندگی پانی ہوئی آسماں سے کہکشاؤں کی بہار آگ برساتی رہی زندگی فٹ پاتھ پر ایک روٹی کی طلب میں ہاتھ پھیلاتی رہی قطرہ قطرہ بے بسی تیزاب سی جسم پگھلاتی رہی ردی چنواتی رہی نیٹی جیٹی پر کھڑی خلق خدا ہنستی رہی اور خدا خاموش تھا

مزید پڑھیے

سارباں

سارباں نکلے تھے جس وقت گھروں سے اپنے آشیانوں کو پرندے بھی نہیں چھوڑتے جب راستے رستوں کی آغوش ہی میں سوئے تھے اور ہوا سبز پہاڑوں سے نہیں اتری تھی آسماں پر ابھی تاروں کی سجی تھی محفل سارباں نکلے تھے جس وقت گھروں سے اپنے رنگ خوابوں میں ابھی گھلتے تھے جسم میں وصل کی لذت کا نشہ باقی ...

مزید پڑھیے

سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیں

سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیں کھلا کہ کوئی بھی لمحہ ٹھہرنے والا نہیں کوئی بھی رستہ کسی سمت کو نہیں جاتا کوئی سفر مری تکمیل کرنے والا نہیں ہوا کی ابر کی کوشش تو پوری پوری ہے مگر دھویں کی طرح میں بکھرنے والا نہیں میں اپنے آپ کو بس ایک بار دیکھوں گا پھر اس کے بعد کسی سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4321 سے 5858