شاعری

شامیانوں کی وضاحت تو نہیں کی گئی ہے

شامیانوں کی وضاحت تو نہیں کی گئی ہے آج خیرات ہے دعوت تو نہیں کی گئی ہے دیکھتی ہے ہمیں دنیا اسے روکا جائے ساتھ رہتے ہیں محبت تو نہیں کی گئی ہے ہم نے کاسہ ہی بڑھایا ہے دعا دیتے ہوئے در بہ در جا کے شکایت تو نہیں کی گئی ہے راستہ ہے اسے ملنے کی جگہ کہتے ہیں آپ سے ملنے کی زحمت تو نہیں ...

مزید پڑھیے

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے اس کے بعد آئے جو عذاب آئے بام مینا سے ماہتاب اترے دست ساقی میں آفتاب آئے ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو سامنے پھر وہ بے نقاب آئے عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر تیری مہر و وفا کے باب آئے کر رہا تھا غم جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے نہ گئی تیرے غم کی سرداری دل ...

مزید پڑھیے

ایک نظم ۱

سبز شاخوں پر نئے سرخ پتے مخمل کی صورت سجنے لگے پرانی شاخوں پر نئے پنچھی چہکنے لگے پچھلا موسم کب بیتا نیا موسم کب آیا یہ سوچ کر ہم ہنسنے لگے نئے آشیانے نئے موسم سب تمہارے ہیں بیتی رتوں کے منظر نامے بس ہمارے ہیں

مزید پڑھیے

برسر روزگار تھے پہلے

برسر روزگار تھے پہلے ہم بھی یاروں کے یار تھے پہلے آج یہ زیست ہم پہ بار سہی زیست پر ہم بھی بار تھے پہلے آج ہم وقت کو پکارتے ہیں وقت کی ہم پکار تھے پہلے آؤ اب ان کی چھاؤں بھی ڈھونڈیں جو شجر سایہ دار تھے پہلے گو کہ خوشیاں ہیں بے شمار مگر غم بہت خوش گوار تھے پہلے

مزید پڑھیے

ڈوبا ہوا سا خون میں خاور دکھائی دے

ڈوبا ہوا سا خون میں خاور دکھائی دے گویا سحر میں شام کا منظر دکھائی دے لوگو تمہارا شہر تو شیشے کا شہر ہے پھر بھی ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دے مدت سے میرے گاؤں کے چولھے بھی سرد ہیں لیکن اک آگ ہے کہ جو گھر گھر دکھائی دے یہ کیا کہ میرے فکر و عمل میں تضاد ہے مجھ کو تو کوئی میرے ہی ...

مزید پڑھیے

دن تو جوں توں چلو گزر جائے

دن تو جوں توں چلو گزر جائے نگھرا رات میں کدھر جائے یہ سڑک پر پڑا ہوا اک شخص اس کے سینے سے کار اتر جائے گھر سے پاؤں نکل گیا اس کا اب خدا جانے وہ کدھر جائے اس زمانے میں زندگی کے لئے سوچ بھی لے کوئی تو مر جائے رات کی فکر تو کروں لیکن سر سے یہ دھوپ تو اتر جائے آئنہ منہ چڑا رہا ہے ...

مزید پڑھیے

سوچتا ہوں کدھر گئے ہم لوگ

سوچتا ہوں کدھر گئے ہم لوگ جی رہے ہیں کہ مر گئے ہم لوگ رات بھر ایک ایک جمع ہوئے پو پھٹے ہی بکھر گئے ہم لوگ اپنا گھر ڈھونڈنے کو کیا نکلے جانے کس کس کے گھر گئے ہم لوگ یہ مکاں شہر بھائی اور بہن ان حدوں سے گزر گئے ہم لوگ دل کہیں ہے تو دست و پا ہیں کہیں جسم تقسیم کر گئے ہم لوگ

مزید پڑھیے

غم کی گر چاشنی نہیں ہوتی

غم کی گر چاشنی نہیں ہوتی زندگی زندگی نہیں ہوتی روٹھ جانا تو خیر آساں ہے پر منانا ہنسی نہیں ہوتی ان کے پیچھے تو ہے انہیں کا ذکر سامنے بات بھی نہیں ہوتی دل لگا کر سمجھ میں آیا ہے یہ کوئی دل لگی نہیں ہوتی بے خودی سے جو ہم کنار نہیں وہ خودی آگہی نہیں ہوتی آہ جو عرش تک پہنچ نہ ...

مزید پڑھیے

ہم نے بوڑھوں سے یہ سنی ہے میاں

ہم نے بوڑھوں سے یہ سنی ہے میاں بات وہ ہے جو ان کہی ہے میاں اپنی سانسیں بھی اپنے بس میں نہیں زندگی خاک زندگی ہے میاں جس کے تن پر لباس تک بھی نہیں وہ بھی کیا کوئی آدمی ہے میاں میرے الفاظ لکھ کے تم رکھ لو ابھی آواز دب رہی ہے میاں تم نہیں بولتے تو یوں ہی سہی ہم نے بھی چپ کی سادھ لی ہے ...

مزید پڑھیے

تم جو ہو پاس تو کمی کیا ہے

تم جو ہو پاس تو کمی کیا ہے تم نہ ہو تو یہ زندگی کیا ہے گردش وقت یہ تو بتلا دے پھول کیا چیز ہے کلی کیا ہے کوئی لمحہ رکے تو میں پوچھوں وقت کو ایسی بیکلی کیا ہے ایک سانسوں کے سلسلے کے سوا ہم غریبوں کی زندگی کیا ہے بند کمروں کے باسیوں سے نہ پوچھ صبح کیا شے ہے روشنی کیا ہے عقل مبہوت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4304 سے 5858