شاعری

رات کٹی ہے روتے روتے

رات کٹی ہے روتے روتے غم کا بوجھا ڈھوتے ڈھوتے زخموں کی سوغات ملی ہے داغ پنہاں دھوتے دھوتے گھر پچھوارے کیسا غل ہے جاگ نہ جاؤں سوتے سوتے عہد جوانی بھاری پتھر تھک جاؤں گا ڈھوتے ڈھوتے یہ بھی وقت کا دھوکا سمجھو کوئی ہنسے جو روتے روتے

مزید پڑھیے

گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے

گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے کرتے ہیں بہت لوگ مگر ہم نہیں کرتے ہے اپنی طبیعت میں جو خامی تو یہی ہے ہم عشق تو کرتے ہیں مگر کم نہیں کرتے نفرت سے تو بہتر ہے کہ رستے ہی جدا ہوں بے کار گزر گاہوں کو باہم نہیں کرتے ہر سانس میں دوزخ کی تپش سی ہے مگر ہم سورج کی طرح آگ کو مدھم نہیں ...

مزید پڑھیے

مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا

مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا سورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیا پھر آئنے میں خون دکھائی دیا مجھے آنکھوں میں آ گیا تو چھپایا کہاں گیا آواز دے رہا تھا کوئی مجھ کو خواب میں لیکن خبر نہیں کہ بلایا کہاں گیا کتنے چراغ گھر میں جلائے گئے نہ پوچھ گھر آپ جل گیا ہے جلایا کہاں ...

مزید پڑھیے

میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا

میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا معاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیا میں سو گیا تو کوئی نیند سے اٹھا مجھ میں پھر اپنے ہاتھ میں سب انتظام اس نے لیا کبھی بھلایا کبھی یاد کر لیا اس کو یہ کام ہے تو بہت مجھ سے کام اس نے لیا نہ جانے کس کو پکارا گلے لگا کے مجھے مگر وہ میرا نہیں تھا ...

مزید پڑھیے

میں غار میں تھا اور ہوا کے بغیر تھا

میں غار میں تھا اور ہوا کے بغیر تھا اک روز آفتاب ضیا کے بغیر تھا ساحل پہ آ کے ڈوب گئی ناؤ اپنے آپ اک شخص اس میں اپنی رضا کے بغیر تھا سب رو رہے تھے خوف کی دیوار سے لگے کہرام تھا کہ صوت و صدا کے بغیر تھا کیوں نقش پا تمام کسی دائرے میں تھے یہ کون تھا جو دست دعا کے بغیر تھا فیصلؔ جو ...

مزید پڑھیے

اب چلو دیکھ لیں یہی کر کے

اب چلو دیکھ لیں یہی کر کے اپنے ماضی پہ شاعری کر کے لے گئی راتیں پھر اجالوں کو پھر سے باتیں بڑی بڑی کر کے راتیں مجھ میں سکون کتنا ہے ہم نے دیکھا یہ بندگی کر کے زندگی اک کتاب تھی پھر بھی لوگ گزرے غلط سہی کر کے لوٹنا ہے مجھے وہیں یاروں ان کے ہی نام زندگی کر کے فیضؔ سودا نہیں کیا ...

مزید پڑھیے

کیا کوئی تصویر بن سکتی ہے صورت کے بغیر

کیا کوئی تصویر بن سکتی ہے صورت کے بغیر پھر کسی سے کیوں ملے کوئی ضرورت کے بغیر دشمنی تو چاہنے کی انتہا کا نام ہے یہ کہانی بھی ادھوری ہے محبت کے بغیر تیری یادیں ہو گئیں جیسے مقدس آیتیں چین آتا ہی نہیں دل کو تلاوت کے بغیر دھوپ کی ہر سانس گنتے شام تک جو آ گئے چھاؤں میں وہ کیا جئیں ...

مزید پڑھیے

شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہے

شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہے لوٹ آئے ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہے دیکھ کر سوکھ گیا کیسے بدن کا پانی میں نہ کہتا تھا مری پیاس سے دریا کم ہے خود سے ملنے کی کبھی گاؤں میں فرصت نہ ملی شہر آئے ہیں یہاں ملنا ملانا کم ہے آج کیوں آنکھوں میں پہلے سے نہیں ہیں آنسو آج کیا بات ہے کیوں موج ...

مزید پڑھیے

آنا تھا جسے آج وہ آیا تو نہیں ہے

آنا تھا جسے آج وہ آیا تو نہیں ہے یہ وقت بدلنے کا اشارا تو نہیں ہے دعوت دے کبھی کیوں وہ محبت سے بلائے دریا سے مری پیاس کا رشتہ تو نہیں ہے یہ کون گیا ہے کہ جھپکتی نہیں آنکھیں رستے میں وہ ٹھہرا ہوا لمحہ تو نہیں ہے ہنستا ہوا چہرہ ہے دمکتا ہوا پیکر گزرا ہوا یہ میرا زمانہ تو نہیں ...

مزید پڑھیے

اپنے قدم کی چاپ سے یوں ڈر رہے ہیں ہم

اپنے قدم کی چاپ سے یوں ڈر رہے ہیں ہم مقتل کی سمت جیسے سفر کر رہے ہیں ہم کیا چاند اور تاروں کو ہم جانتے نہیں اے آسمان والو زمیں پر رہے ہیں ہم مشکل تھا سطح آب سے ہم کو کھنگالنا باہر نہیں تھے جتنا کہ اندر رہے ہیں ہم کل اور کوئی وقت کی آنکھوں میں ہو تو کیا اب تک تو ہر نگاہ کا محور رہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4305 سے 5858