شاعری

ناشگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا

ناشگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا بار سہہ نہیں سکتیں دیر تک تلاطم کا جانے کتنی فریادیں ڈھل رہی ہیں نغموں میں چھڑ رہی ہے دکھ کی بات نام ہے ترنم کا کتنے بے کراں دریا پار کر لیے ہم نے موج موج میں جن کی زور تھا تلاطم کا اے خیال کی کلیو اور مسکرا لیتیں کچھ ابھی تو آیا تھا رنگ سا تبسم ...

مزید پڑھیے

تو مجھے ایک جھلک بھی نہیں دکھلانی کیا

تو مجھے ایک جھلک بھی نہیں دکھلانی کیا صرف موسیٰ پہ عنایت تھی یہ فرمانی کیا میں کسی شخص کے مرنے پہ بھی غمگین نہیں خاک اگر خاک میں ملتی ہے تو حیرانی کیا خط میں لکھتے ہو بہت دکھ ہے تمہیں ہجرت کا یار جب جا ہی چکے ہو تو پشیمانی کیا میری آنکھوں میں ذرا غور سے دیکھ اور بتا ان سے بڑھ کر ...

مزید پڑھیے

بھلے بجھانے کی ضد پہ ہوا اڑی ہوئی ہے

بھلے بجھانے کی ضد پہ ہوا اڑی ہوئی ہے مگر چراغ کی لو اور بھی بڑھی ہوئی ہے میں سوچتا ہوں اسے سر پہ رکھ لیا جائے زمین کب سے مرے پاؤں میں پڑی ہوئی ہے تمہارے لہجے کی لکنت بتا رہی ہے مجھے کہ تم نے خود سے ہی یہ داستاں گڑھی ہوئی ہے کوئی بتائے غزالہ کو میں شکاری ہوں وہ بے تکان مری راہ میں ...

مزید پڑھیے

مرحلے آئے رہ عشق میں دشوار کئی

مرحلے آئے رہ عشق میں دشوار کئی میں نے اک چاند کے دیکھے ہیں طلب گار کئی وحشت رم تھی طبیعت میں غزالوں جیسی یوں تو آتے ہی رہے راہ میں چھتنار کئی ہوں وہ تصویر جو اب تک ہے نہاں رنگوں میں یوں تو سنتے ہیں کہ ہیں شہر میں فن کار کئی زیست کرنا بھی ہوا چومکھی لڑنا گویا اپنی ہی ذات سے بھی ہوتے ...

مزید پڑھیے

چوٹ لگتی ہے اگر

کتنے ہی صاحب دل اہل نظر اہل قلم اک زمانے سے یوں ہی لکھتے چلے آئے ہیں وہی اک قصۂ دل دوز کہ جو صدیوں سے ہے رواں مفلس و زردار کے بیچ ایک اک حرف لکھا خون جگر سے لیکن کچھ نہیں بدلا بجا کہتے ہو کچھ نہ بدلے گا میں جو بھی لکھوں ہاں یہ سچ ہے میں اسے مانتی ہوں لیکن اے دوست سنو اتنا حق مجھ کو ...

مزید پڑھیے

تمہیں آزاد کرتی ہوں

سنو کوئی عذر مت ڈھونڈو نہ ہی نظریں چراؤ تم مجھے معلوم ہے میں سب سمجھتی ہوں تمہارے عہد الفت سے تمہیں آزاد کرتی ہوں اب ایسا ہے کہ پتھر کا زمانہ پھر سے لوٹ آیا وہی قانون جنگل کا جبلت کا غلام انساں فراز عشق سے پاتال تک کا ہے سفر یعنی فراق و ہجر کے موسم ہوئے پارینہ قصے اب بہ کثرت ہیں ...

مزید پڑھیے

سچ بتا

اے خدا کیسے میں مانوں کہ مٹی سے بنی ہے ماں بھی خاک تو فانی ہے مٹ جاتی ہے اور لا فانی کو فانی میں کیسے مانوں سچ بتا کون چھپا ہے اس میں ظرف انسان میں وسعت یہ کہاں سے آئے وہی الفت وہی شفقت وہی پردہ پوشی یہ تو صفتیں ہیں تری میں تو حیران ہوں اک سادہ سی لڑکی کیوں کر ہفت افلاک کو چھو لیتی ...

مزید پڑھیے

روز تارے شمار کون کرے

روز تارے شمار کون کرے جیت کو اپنی ہار کون کرے تجھ سے دھوکے ملے سدا ہم کو تجھ پہ پھر اعتبار کون کرے بھیڑیوں کا ہوا ہے یہ جنگل بھیڑیوں کا شکار کون کرے جو نہ آئے گا لوٹ کر واپس اس کا دل انتظار کون کرے سوچتی ہوں میں بے وفا کے لیے ہائے دل بے قرار کون کرے عشق کی اوج پر ہو بازی گری فکر ...

مزید پڑھیے

اب تو آ جا مری پلکیں ہیں یہ پیاسی کب سے

اب تو آ جا مری پلکیں ہیں یہ پیاسی کب سے فرش رہ بیٹھی ہے آ دیکھ اداسی کب سے مجھ کو بھی اچھا نہیں لگتا سنورنا لیکن ترک تو نے کیا یہ ذوق لباسی کب سے گھر میں رشتوں کی کڑی ٹوٹ گئی ہو جیسے گھر میں رہنے لگی اک بات ذرا سی کب سے بانٹتا پھرتا ہے در در تو محبت سب کو گھر میں بیٹھی ہے ادھر دیکھ ...

مزید پڑھیے

جو تری شرط پہ بھٹی سے پگھل کر نکلے

جو تری شرط پہ بھٹی سے پگھل کر نکلے ہم وہ شاعر ہیں جو احساس میں ڈھل کر نکلے کتنا مسرور تھا وہ اس کو نہیں تھا معلوم ہم کیوں آواز پہ یوں ہاتھوں کو مل کر نکلے ہم وہی لوگ ہیں جو سن کے صدائے ہجرت اپنے قدموں میں سفر اپنا کچل کر نکلے یہ مرے لفظ مری سوچ کے جوہر یہ تو منجمد بحر گراں سے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4252 سے 5858