ناشگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا
ناشگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا بار سہہ نہیں سکتیں دیر تک تلاطم کا جانے کتنی فریادیں ڈھل رہی ہیں نغموں میں چھڑ رہی ہے دکھ کی بات نام ہے ترنم کا کتنے بے کراں دریا پار کر لیے ہم نے موج موج میں جن کی زور تھا تلاطم کا اے خیال کی کلیو اور مسکرا لیتیں کچھ ابھی تو آیا تھا رنگ سا تبسم ...