خواب آنکھوں کے یہ بے جان کہاں ہوتے ہیں
خواب آنکھوں کے یہ بے جان کہاں ہوتے ہیں راستے صبر کے آسان کہاں ہوتے ہیں جو گئے آپ تو تنہائی یہاں رہنے لگی کہ نگر دل کے یہ ویران کہاں ہوتے ہیں کوئی مر جائے سسکتا رہے دم بھرتا رہے ہنسنے والے یہ پریشان کہاں ہوتے ہیں درد تو شور مچاتا ہے اکیلے من میں دل کے دالان بھی سنسان کہاں ہوتے ...