شاعری

حق مہر کتنا ہوگا بتایا نہیں گیا

حق مہر کتنا ہوگا بتایا نہیں گیا شہزادیوں کو بام پر لایا نہیں گیا کمزور سی حدیث سنا دی گئی کوئی انصاف کا ترازو اٹھایا نہیں گیا میں اپنے ساتھ ساتھ ہوں وہ اپنے ساتھ ساتھ ہم زاد آپ ہم کو بنایا نہیں گیا پیالے میں پیاس اور دریچے میں چاند تھا وہ سو رہا تھا مجھ سے جگایا نہیں گیا اک ...

مزید پڑھیے

کھلتی ہوئی مٹھی میں آنسو ہے کہ تارا ہے

کھلتی ہوئی مٹھی میں آنسو ہے کہ تارا ہے اک خواب تمہارا ہے اک خواب ہمارا ہے لمحوں کی کلائی میں بس یاد کھنکتی ہے بہہ جاتے ہیں سب اس میں یہ وقت کا دھارا ہے کیا دشت رفاقت میں احساس کی صورت ہے کیسے اسے بتلائیں کیا حال ہمارا ہے

مزید پڑھیے

اٹھے ہاتھ دعاؤں والے بھر دے مولا

اٹھے ہاتھ دعاؤں والے بھر دے مولا میرے شہر کا موسم اچھا کر دے مولا دھیان سرا میں جانے کب سے بہک رہی ہیں ان چڑیوں کو اپنے بال و پر دے مولا خواب نگر سے اپنی فصلیں کاٹیں یہ بھی اہل چمن کو اچھی کوئی خبر دے مولا ان گلیوں میں مایوسی لہریں لیتی ہے ان گلیوں کو اب تو نئی سحر دے مولا تھکا ...

مزید پڑھیے

لاکھ رہے شہروں میں پھر بھی اندر سے دیہاتی تھے

لاکھ رہے شہروں میں پھر بھی اندر سے دیہاتی تھے دل کے اچھے لوگ تھے لیکن تھوڑے سے جذباتی تھے اب بھی اکثر خواب میں ان کے دھندلے چہرے آتے ہیں میری گڑیا کی شادی میں جو ننھے باراتی تھے اپنے گرد لکیریں کھینچیں اور پھر ان میں قید ہوئے اس دنیا میں کھیل تھے جتنے سارے ہی طبقاتی ...

مزید پڑھیے

خواب اٹھا کر طاق پہ رکھے میں نے بھی

خواب اٹھا کر طاق پہ رکھے میں نے بھی دنیا تیرے ناز اٹھائے میں نے بھی وہ بھی امیدوں پر پورا کب اترا توڑ دیے آدرش پرانے میں نے بھی عشق روایت بن کر میرے ساتھ چلا تصویروں کے آنسو دیکھے میں نے بھی نئی نویلی آوازوں کا شور اٹھا کن اکھیوں سے منظر دیکھے میں نے بھی آتے آتے آئی ہے دنیا ...

مزید پڑھیے

یاد آتے ہی رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ

یاد آتے ہی رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ کس کی میراث تھے اور کس کے حوالے ہوئے لوگ شہر آشوب میں آنسو کی طرح پھرتے ہیں ہائے وہ لوگ کسی خواب کے پالے ہوئے لوگ اول اول تو ہماری ہی طرح لگتے تھے منصب عشق پہ آئے تو نرالے ہوئے لوگ جانے کس سمت انہیں تلخیٔ دوراں لے جائے اپنی پہچان کو نیزوں پہ ...

مزید پڑھیے

آنچ تو دئے کی تھی سردیوں کی شاموں میں

آنچ تو دئے کی تھی سردیوں کی شاموں میں ورنہ دھوپ کب اتری سردیوں کی شاموں میں ہاتھ سے کبوتر تو پھر اڑا دیا میں نے رہ گئی ہے تنہائی سردیوں کی شاموں میں ہجر اور ہجرت کو اوڑھ کر بھی دیکھا ہے سانس تک نہ چلتی تھی سردیوں کی شاموں میں سرد گرم لمحوں کی آگ تاپتے تھے ہم وہ جو اک رسوئی تھی ...

مزید پڑھیے

خشک آنگن میں تھی نمی لڑکی

خشک آنگن میں تھی نمی لڑکی عمر بھر سوچتی رہی لڑکی اس کی سیرت پہ کوئی بھی نہ گیا صورتاً سانولی سی تھی لڑکی اس کے اندر کا مرد جاگ اٹھا جب بھی تنہائی میں ملی لڑکی کچے رستوں سے آشنا کب تھی بارشوں میں دھلی ہوئی لڑکی وہ تو منزل کو پا چکا ہوگا راستوں میں بکھر گئی لڑکی وہ جو سب کو فریب ...

مزید پڑھیے

سونے ہمیں کب دیتی ہے آواز کسی کی

سونے ہمیں کب دیتی ہے آواز کسی کی خوابوں میں بھی در آئی ہے آواز کسی کی جب دور جزیروں پہ کوئی جا بسے اپنا لہروں پہ سفر کرتی ہے آواز کسی کی اٹھتے ہیں قدم جب بھی کسی دشت کی جانب قدموں کو جکڑ لیتی ہے آواز کسی کی یہ لوگ تماشائی ہیں بس گیت سنیں گے کیا ان کو جو بھر آئی ہے آواز کسی ...

مزید پڑھیے

خون میں ڈوبی ردائیں نہیں دیکھی جاتیں

خون میں ڈوبی ردائیں نہیں دیکھی جاتیں بین کرتی ہوئی مائیں نہیں دیکھی جاتیں ختم ہوتے ہوئے آنسو ہوں کہ تھمتا ہوا درد ہم سے اب اور سزائیں نہیں دیکھی جاتیں جانے والوں کا بھلا کیسے تمہیں دیں پرسا خالی ہاتھوں کی دعائیں نہیں دیکھی جاتیں مرنے والوں کی صدائیں تو میں سن سکتی ہوں جینے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4231 سے 5858