شاعری

یادیں

چھوٹے چھوٹے تہواروں کی کیسی خوشیاں تھیں ہم پھلجڑیاں لے کر صحن میں بھاگے پھرتے تھے شب برات پہ میں نے بھی مانگی تھی ایک دعا اس کے ہونٹوں پر بھی کتنے حرف سنہرے تھے گرمی کی تپتی دوپہریں اور پیپل کا پیڑ میری دکھتی آنکھوں میں سکھ چین اترتے تھے اک جیسی بے مقصد سوچیں اک جیسے ...

مزید پڑھیے

سن حوا کی بیٹی

کوئی دن ایسا بھی آیا کیا تم جی پائی ہو اپنے لیے تم مر پائی ہو اپنے لیے کبھی کھل کر ہنسنا سیکھا ہو کسی خواب کو چھو کر دیکھا ہو جاگی ہو اپنی صبحوں میں کبھی سوئی اپنی آنکھ سے تم ڈالی ہو اپنی جھولی میں کبھی چاہت اپنے حصے کی کبھی تنہائی کے پیالے میں کوئی لمحہ امرت جیسا بھی کبھی روح کے ...

مزید پڑھیے

کیوں دیا تھا؟ بتا! میری ویرانیوں میں سہارا مجھے

کیوں دیا تھا؟ بتا! میری ویرانیوں میں سہارا مجھے میں اداسی کے ملبے تلے دفن تھی، کیوں نکالا مجھے ایسی نازک تھی گھر کے پرندوں سے بھی خوف کھاتی تھی میں یہ کہاں، کن درندوں کے جنگل میں پھینکا ہے تنہا مجھے خواب ٹوٹے تھے اور کرچیاں اب بھی آنکھوں میں پیوست ہیں اب یہ کس منہ سے پھر خواب ...

مزید پڑھیے

روند پائے نہ دلائل میرے

روند پائے نہ دلائل میرے میرے دشمن بھی تھے قائل میرے صاف دکھتی تھی جلن آنکھوں میں پھر بھی ہونٹوں پہ فضائل میرے یہ تہی فکر کنوئیں کے مینڈک یہ نہ سمجھیں گے مسائل میرے چھاؤں دیتے تھے مگر راہ نہیں پیڑ تھے رستے میں حائل میرے آنکھ اب خواب نہیں دے سکتی روشنی مانگ لے سائل میرے جب ...

مزید پڑھیے

ہم تحفے میں گھڑیاں تو دے دیتے ہیں

ہم تحفے میں گھڑیاں تو دے دیتے ہیں اک دوجے کو وقت نہیں دے پاتے ہیں آنکھیں بلیک اینڈ وائٹ ہیں تو پھر ان میں کیوں رنگ برنگے خواب کہاں سے آتے ہیں خوابوں کی مٹی سے بنے دو کوزوں میں دو دریا ہیں اور اکٹھے بہتے ہیں چھوڑو جاؤ کون کہاں کی شہزادی شہزادی کے ہاتھ میں چھالے ہوتے ہیں درد کو ...

مزید پڑھیے

اسے بھولنے کا ستم کر رہے ہیں

اسے بھولنے کا ستم کر رہے ہیں ہم اپنی اذیت کو کم کر رہے ہیں ہماری نگاہوں سے سپنے چرا کر وہ کس کی نگاہوں میں ضم کر رہے ہیں حیات رواں کی ہر اک نا روائی ہم اپنے لہو سے رقم کر رہے ہیں بھلی کیوں لگے ہم کو خوشیوں کی دستک ابھی ہم محبت کا غم کر رہے ہیں کسے دکھ سنائیں سبھی تو یہاں پر شمار ...

مزید پڑھیے

بیتے خواب کی عادی آنکھیں کون انہیں سمجھائے

بیتے خواب کی عادی آنکھیں کون انہیں سمجھائے ہر آہٹ پر دل یوں دھڑکے جیسے تم ہو آئے ضد میں آ کر چھوڑ رہی ہے ان بانہوں کے سائے جل جائے گی موم کی گڑیا دنیا دھوپ سرائے شام ہوئی تو گھر کی ہر اک شے پر آ کر جھپٹے آنگن کی دہلیز پہ بیٹھے ویرانی کے سائے ہر اک دھڑکن درد کی گہری ٹیس میں ڈھل ...

مزید پڑھیے

من موجی ہے ایک ڈگر میں رہتا ہے

من موجی ہے ایک ڈگر میں رہتا ہے دل کا دریا روز سفر میں رہتا ہے ایک پتنگ اڑتی ہے میری سوچ میں روز ڈور لیے وہ پس منظر میں رہتا ہے کون لکیریں کھینچ رہا ہے آنگن میں کون ہے جو اس خالی گھر میں رہتا ہے روز میں ان گلیوں کی خیر مناتی ہوں روز اک شعلہ خیز خبر میں رہتا ہے کب تک میں گھر کے ...

مزید پڑھیے

کھڑکی کھول کے دیکھو موسم اچھا ہے

کھڑکی کھول کے دیکھو موسم اچھا ہے چڑیو پر پھیلاؤ موسم اچھا ہے اپنی دھرتی جیسا کوئی اور نہیں لوٹ کے واپس آؤ موسم اچھا ہے سچائی کے رنگ ہوا میں پھیل گئے چنری کو لہراؤ موسم اچھا ہے ختم نہ ہونے دینا اپنا جوش و جنوں عشق کو ساتھ ملاؤ موسم اچھا ہے وعدے چوم رہے ہیں اپنی چوکھٹ کو جھومو ...

مزید پڑھیے

عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں

عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں وہ مجھ سے ستاروں کا پتا پوچھ رہا ہے پتھر کی طرح جس کی انگوٹھی میں جڑی ہوں الفاظ نہ آواز نہ ہم راز نہ دم ساز یہ کیسے دوراہے پہ میں خاموش کھڑی ہوں اس دشت بلا میں نہ سمجھ خود کو اکیلا میں چوب کی صورت ترے خیمے میں گڑی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4230 سے 5858