بس یہی بات یہاں حرف ملامت کی ہے
بس یہی بات یہاں حرف ملامت کی ہے میں نے دریا کی نہیں دشت کی بیعت کی ہے قتل سورج کو کیا وہ بھی چھپا کر خنجر شام والوں نے سحر میں یہ سیاست کی ہے ورنہ کیا ہم کو غرض حال تمہارا پوچھیں بات یہ کچھ بھی نہیں صرف محبت کی ہے ہم تو موجوں سے لڑے اور کنارے پہنچے ہم نے کب ڈوبتی کشتی کی حمایت کی ...