کہیں یہ خواب مرا زندگی نہ بن جائے
کہیں یہ خواب مرا زندگی نہ بن جائے چراغ بجھتا ہوا روشنی نہ بن جائے میں اس خیال سے روتا نہیں ہوں صحرا میں کہیں یہ دشت کسی دن ندی نہ بن جائے ارادہ کر تو رہے ہو اسے چلانے کا مگر یہ تیر تمہارا ہنسی نہ بن جائے عذاب وصل گوارا تو ہے ہمیں لیکن یہ ایک لمحہ رہے اک صدی نہ بن جائے عجیب رنگ ...