یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہے
یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہے ملا ہے درد وہ دل کو جو راحت جاں ہے تری نگاہ سمجھتی ہے یا نہیں دیکھوں لب خموش میں کوئی سوال پنہاں ہے مراد ذوق خرابی کی اب بر آئے گی کہ دل کی تاک میں وہ چشم فتنہ ساماں ہے فراغ حوصلگی پر جنوں کی شاہد ہے وہ ایک چاک جو دامن سے تاگریباں ہے یہ بے خودی ...