شاعری

میں مطمئن نہ ہوا تجھ کو غم سنا کے بھی

میں مطمئن نہ ہوا تجھ کو غم سنا کے بھی اندھیرا اور بڑھا ہے دیا جلا کے بھی قبول کرتے ہوئے دل تڑپنے لگتا ہے عجیب ہوتے ہیں کچھ فیصلے خدا کے بھی وہ آسمان مری دسترس میں کیا آتا ہزار کوششیں کیں ایڑیاں اٹھا کے بھی تجھے گلے سے لگائیں تو جاں نکلتی ہے اسیر جسم ہیں لیکن تری حیا کے بھی مگر ...

مزید پڑھیے

فیصلے وہ نہ جانے کیسے تھے

فیصلے وہ نہ جانے کیسے تھے رات کی رات گھر سے نکلے تھے یاد آتے ہیں اب بھی رہ رہ کر شہر میں کچھ تو ایسے چہرے تھے کیا زمانہ تھا وہ کہ ہم دونوں ایک دوجے کا دکھ سمجھتے تھے کس کڑی دھوپ کے سفر میں ہیں نام پیڑوں پہ جن کے لکھے تھے جانے کس گل بدن کی یاد آئی فصل گل میں اداس بیٹھے تھے وقت سا ...

مزید پڑھیے

یہ سچ ہے وفا اس نے وعدہ کیا

یہ سچ ہے وفا اس نے وعدہ کیا تماشا مگر کچھ زیادہ کیا سلیقے سے رکھا ہر اک چیز کو یوں کمرے کو اپنے کشادہ کیا کڑے کوس پگ پگ جھلستی زمیں یہ رستہ بھی طے پا پیادہ کیا یوں ہی اپنے گھر سے نکل آئے ہیں سفر آج پھر بے ارادہ کیا ہر اک بات دل مانتا ہے مری کوئی یار تو سیدھا سادہ کیا طرف دار ...

مزید پڑھیے

ہے ایسا وقت کہ خود پر کرم کیا جائے

ہے ایسا وقت کہ خود پر کرم کیا جائے ضرورتوں کو ذرا اپنی کم کیا جائے ہو اپنی آنکھوں میں ہر دم وہ ایک ہی چہرہ سو اپنی آنکھوں پہ ایسا ہی دم کیا جائے قبولیت کا سبب ایک یہ بھی ہو شاید دعا کے وقت میں آنکھوں کو نم کیا جائے وہ ساتھ چھوڑ گیا تو ملال کیا اس کا بچھڑ گیا جو کہیں اس کا غم کیا ...

مزید پڑھیے

گل و گلزار گہر چاند ستارے بچے

گل و گلزار گہر چاند ستارے بچے رنگ و بو نور کے پیکر ہیں یہ سارے بچے آئنے ہیں کہ دمکتے ہوئے چہرے ان کے ایسے شفاف کہ دریاؤں کے دھارے بچے کتنے معصوم کے یہ سانپ پکڑنا چاہیں کتنے بھولے ہیں کہ چھوتے ہیں شرارے بچے آنے والوں کو بتا دیتے ہیں گھر کی باتیں کب سمجھتے ہیں یہ آنکھوں کے اشارے ...

مزید پڑھیے

چھانو نہیں شجر نہیں

چھانو نہیں شجر نہیں اور تو ہم سفر نہیں دل سے دھواں اٹھا مگر راکھ نہیں شرر نہیں آٹھ پہر اداس ہوں شام نہیں سحر نہیں یہ تو مقام اور ہے دشت نہیں گھر نہیں دیکھ لہو ہے آنکھ میں اشک نہیں گہر نہیں آس کی شاخ پر کہیں برگ نہیں ثمر نہیں اس کو خبر ہے مجھ میں کیا عیب نہیں ہنر نہیں

مزید پڑھیے

کئی چہروں میں دیکھا جا رہا ہوں

کئی چہروں میں دیکھا جا رہا ہوں زمانے کی نظر کا واہمہ ہوں یہ دنیا کیا خبر اب کے بچے گی میں اپنا مرثیہ خود لکھ رہا ہوں تجسس اب نظر کا اور کیا ہے جدھر سب دیکھتے ہیں دیکھتا ہوں حقیقت آئنہ جانے گا لیکن تری خاطر سنورنا چاہتا ہوں کبھی بنتا ہے کوئی لفظ پیکر یوں لکھنے کو مسلسل لکھ رہا ...

مزید پڑھیے

کتبہ

الججہنی، آشفتگی آمادگی رات بھر کالے سوالوں کے نگر میں گھوم پھر کر صبح اپنے آپ میں جو لوٹ آیا ایک بوسیدہ عمارت کا کوئی کتبہ ہے وہ اور اب یونہی اپنے آپ میں سمٹا ہوا رہتا ہے وہ

مزید پڑھیے

شہر کی آنکھوں میں

میں پہاڑوں سے اتر آیا تو مجھ پر یہ کھلا اب پلٹ جانے کی خواہش ہے فضول! سارے رستے بند ہیں شہر کی آنکھوں میں اک پیغام ہے میرے لئے

مزید پڑھیے

اپنی آگ میں

میں۔۔۔! برف سے ڈھکی چٹان سے پھسل پھسل گیا (مچل گیا) میں لمحہ لمحہ اک جہنمی طلب میں مبتلا حد نگاہ دن کی کالی کھائی تک پھسل گیا آفتاب اپنی آگ کے حصار میں پگھل گیا دعا کا ہاتھ جل گیا

مزید پڑھیے
صفحہ 4218 سے 5858