شاعری

بہت خوب نقشہ مرے گھر کا ہے

بہت خوب نقشہ مرے گھر کا ہے کوئی خواب پھر بھی نئے گھر کا ہے جو تیرے سوا دل میں کوئی نہیں تو کیوں شور اس میں بھرے گھر کا ہے فضا ہے معطر ہوا ہے خنک یقیناً یہ رستہ ترے گھر کا ہے زمانے کی دل کو ہوا لگ گئی وگرنہ یہ لڑکا بھلے گھر کا ہے سفر زندگی ہے تو فاروقؔ پھر خیال ایسے میں کس لیے گھر ...

مزید پڑھیے

موسم نے رخصتی جو سنائی بہار کی

موسم نے رخصتی جو سنائی بہار کی بھر آئی آنکھ گل ہی نہیں خار خار کی جائیں تو جائیں بچھڑے ہوئے لوگ کس طرف ہیں پھول نقش پا کے نہ خوشبو غبار کی اک پل دلوں کے درمیاں قائم ہے آج تک طوفاں نے توڑنے کی تو کوشش ہزار کی مدت سے تک رہا ہے مری راہ روزگار اے عشق خوب تیری روش اختیار کی اکثر ہیں ...

مزید پڑھیے

پریشاں بھی کرے گی گل کھلا کے

پریشاں بھی کرے گی گل کھلا کے تماشے دیکھتے رہنا ہوا کے یہیں جنت یہیں گویا جہنم تو ہی اب سوچ اے بندے خدا کے بلاتے وہ اگر تو کیا نہ جاتے گرفتہ یوں بھی کب تھے ہم انا کے گلوں پر کانپتے شبنم کے قطرے لرزتے حرف ہونٹوں پر دعا کے ہوس کی آگ نے جھلسا دیا ہے ہمیں چلنا تھا کچھ دامن بچا کے ہے ...

مزید پڑھیے

صبح کا دھوکا ہوا ہے شام پر

صبح کا دھوکا ہوا ہے شام پر چاند کو دیکھا اچانک بام پر جز مرے سورج پرندے آدمی سب نکل جاتے ہیں اپنے کام پر باریابی کے لیے جائیں مگر دل ٹھٹھک جاتا ہے پہلے گام پر پر لگے خوشبو کو تیرے ذکر سے مسکرائے پھول تیرے نام پر بے ضرورت گھر سے نکلیں اور پھر شے خریدیں کوئی مہنگے دام پر خامشی ...

مزید پڑھیے

ہوا سے دست و گریباں ہوا تو بھید کھلا

ہوا سے دست و گریباں ہوا تو بھید کھلا میں خود دیے کی جگہ پر جلا تو بھید کھلا ہم اپنے نقش بھی کھو بیٹھے اس حسیں کے لیے ہمارے ہاتھ لگا آئینہ تو بھید کھلا مجھے خبر ہی نہ تھی غم بھی ہیں زمانے میں جب آسماں مرے سر پر گرا تو بھید کھلا میں چیختا ہی رہا بے اثر صدائیں دیں کسی طرف نہ ملا جب ...

مزید پڑھیے

ہوا سے کیسے کہوں کیا ملا بجھانے سے

ہوا سے کیسے کہوں کیا ملا بجھانے سے میں تھک گیا ہوں دیے پر دیا جلانے سے اسے پکار مرے دل کہ جس نے پچھلے برس کیا تھا ترک تعلق کسی بہانے سے تو سوچ خود کہ جو ترکش پہ آن بیٹھا ہے وہ بچ سکے گا کہاں تک ترے نشانے سے گئے دنوں کی رفاقت کا یہ اثر ہے کہ اب نئے دنوں میں بھی لگتے ہیں ہم پرانے ...

مزید پڑھیے

عین ممکن ہے یہ دنیا تجھے شہکار لگے

عین ممکن ہے یہ دنیا تجھے شہکار لگے اس کی تعمیر میں ہم جیسے گنہ گار لگے دیکھنے میں تو بہت پھول تھے اس ٹہنی پر چھو کے دیکھا تو سبھی پھول ہمیں خار لگے میں نے تو زخم خریدے ہیں نہ بیچے ہیں کبھی پھر بھی یہ دل کہ کوئی درد کا بازار لگے اک جواں غم کا نتیجہ ہے کہ اکثر مجھ کو راہ چلتا ہوا ہر ...

مزید پڑھیے

اہل سخن بتائیں مجھے مرتبہ مرا

اہل سخن بتائیں مجھے مرتبہ مرا غالب نے آ کے خواب میں مطلع سنا مرا آیا تھا گھومنے کے لیے میں تو چار دن کس نے بنا دیا ہے یہاں مقبرہ مرا پھر مسکرا رہا ہے کوئی منہ پہ رکھ کے ہاتھ پھر آزما رہا ہے کوئی حوصلہ مرا تب مجھ پہ یہ کھلا کوئی اندر کی چوٹ ہے جب آئنے میں عکس بھی دھندلا گیا مرا

مزید پڑھیے

یہ چند لوگ ہمارے ہیں سب ہمارے نہیں

یہ چند لوگ ہمارے ہیں سب ہمارے نہیں چمک رہے ہیں یہ جتنے سبھی ستارے نہیں نہ جانے جلتے ہیں کیوں ہم سے یہ جہاں والے ہمارے پاس تو اشعار ہیں شرارے نہیں وہ مسکراتا ہے اس واسطے تواتر سے کہ اس نے میری طرح دن ابھی گزارے نہیں کچھ اس لیے بھی ہم ایسوں کو موت کا ڈر ہے ہمارے سر ہیں کئی قرض جو ...

مزید پڑھیے

کبھی تو سانس تری یاد سے جدا نکلے

کبھی تو سانس تری یاد سے جدا نکلے ہماری شب کے مقدر سے رتجگا نکلے عجب نہیں کہ مرے بعد میرا کل ترکہ ہرا بھرا سا بس اک زخم اور دیا نکلے بھنور نے گھیر لیا ہے سو بچ نہ پاؤں گا یہ عشق کھیل نہیں ہے کہ راستہ نکلے یہاں تو بولتے رہنا بہت ضروری ہے سخن کے شہر میں گونگے کدھر سے آ نکلے تمہاری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4217 سے 5858