شاعری

نظم

اے سبک سادہ نشاں، پانی کی لہر اے گل امکاں خبر موج ہوا میں زیاں احساس قطرہ قطرہ رات تو سفر، ساکت سمندر، دائرہ طائر لاہوت کا نغمہ عدم اک صلیب شاخ پہ آنکھیں سزا

مزید پڑھیے

دیوار

رنگ، آواز، دھوپ، سایہ، حرف! عکس، اظہار، بے نوا، بربط آسماں، آندھیاں، اندھیرا، آنکھ سانس روکے کھڑی رہی دیوار

مزید پڑھیے

موسم

اپنی آنکھیں بند کر لیں اپنے ذہنوں کے دریچے بند کر لیں ہونٹ سی لیں ورنہ ہم سب زرد پیڑوں سے چپک پتوں پتوں کی طرح

مزید پڑھیے

اندھا سفر

جانے کب سے یونہی جسموں کے خرابوں میں آوارہ یہ لوگ چہرہ چہرہ گرد گرد دست و پا درماندگی جانے کب تک لوگ چلتے رہیں گے اپنے کاندھوں پر لئے ان دیکھا بوجھ

مزید پڑھیے

سحر کے افق سے

سحر کے افق سے دیر تک بارش سنگ ہوتی رہی اور شیشے کے سارے مکاں ڈھیر ہو کے رہے دست و بازو کٹے پاؤں مجروح تھے ذہن میں کرچیاں کھب گئیں اب کے چہرے پہ آنکھیں نہیں زخم تھے کس طرح جاگتے کس لئے جاگتے دیر تک یونہی سوتے رہے لوگ کیا جانے کیا سوچ کر مطمئن ہو گئے لوگ خاموش تھے

مزید پڑھیے

سبز آغاز سے سرخ انجام تک

الف سے آدمی الف سے آم ہے دھوپ بے رنگ ہے درد بے نام ہے آنکھ کم کوش ہے آنکھ خاموش ہے دھوپ سے درد تک رنگ سے نام تک سبز آغاز سے سرخ انجام تک صید سے دام تک ایک آواز ہے سلسلہ سلسلہ ایک احساس ہے دائرہ دائرہ دائرہ دائرہ سلسلہ سلسلہ ایک تو قید ہے ایک میں قید ہوں ایک تو دام ہے ایک میں دام ...

مزید پڑھیے

نجات

آئنوں کے بھرے سمندر میں اک انا جاگتا جزیرہ ہے اور جزیرے میں یوں کھڑا ہوں میں پانیوں میں بہ فیض عکس تمام ڈوبتا اور ابھرتا رہتا ہوں ٹوٹتا اور بکھرتا رہتا ہوں آئنوں کے بھرے سمندر میں

مزید پڑھیے

شہر

شہر آسودہ ذہنوں کی آماجگاہ ہے تو پھر صاحبو کیوں درختوں کو کٹوا دیا اور ان کی جگہ آج ہر سمت ویران خالی عمارات کے سلسلے ہیں فقط

مزید پڑھیے

تھا مان بہت جس پہ جدائی نہیں دیتا

تھا مان بہت جس پہ جدائی نہیں دیتا اب ڈھونڈ رہا ہوں تو دکھائی نہیں دیتا تو قد میں بڑا ہے سو مجھے چیخنا ہوگا کہتے ہیں بلندی پہ سنائی نہیں دیتا پر کاٹ کے وہ باب قفس کھول رہا ہے ایسا بھی نہیں ہے کہ رہائی نہیں دیتا روشن ہے وہ اتنا کہ اسے دور سے دیکھو نزدیک سے وہ شخص دکھائی نہیں ...

مزید پڑھیے

پہلے جو میرا رنگ تھا اب وہ نہیں رہا

پہلے جو میرا رنگ تھا اب وہ نہیں رہا میلا کیا ہے جس نے وہی دھو نہیں رہا جاگا ہوا ہے دل میں کوئی درد بے کراں لوری سنا رہا ہوں مگر سو نہیں رہا سوچو ذرا یہ کتنی اذیت کی بات ہے ہم مر رہے ہیں اور کوئی رو نہیں رہا یعنی چرا کے لے ہی گیا ہے مجھے وہ شخص آئینہ کہہ رہا ہے کہ تو وہ نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4219 سے 5858