شاعری

دل میں محبتوں کے سوا اور کچھ نہیں

دل میں محبتوں کے سوا اور کچھ نہیں تیری حکایتوں کے سوا اور کچھ نہیں یہ غم کی بھیڑ اور یہ دنیا کے راستے ان کی عنایتوں کے سوا اور کچھ نہیں اپنا نہیں خیال مگر دوسروں کا ہے بالکل حماقتوں کے سوا اور کچھ نہیں بھائی کو بھائی کس لیے دیتا ہے رنج و غم بے جا عداوتوں کے سوا اور کچھ نہیں یہ ...

مزید پڑھیے

اک مشت پر ہوں مجھ کو یقیناً سکوں نہیں

اک مشت پر ہوں مجھ کو یقیناً سکوں نہیں لیکن ہوا اڑا کے جو لے جائے یوں نہیں اکثر زمانے والوں نے سوچا ہے اس طرح موجود ہوں مگر یہ خبر ہو کہ ہوں نہیں خودداریٔ مزاج کچھ اتنی عزیز ہے مل جائے سب جہان تو میں اس کو دوں نہیں واعظ نے یوں بنا لیا خود نظم زندگی ہوتے رہیں گناہ پہ اس کو گنوں ...

مزید پڑھیے

متاع ظرف ہوتی تو قد آور ہو گئے ہوتے

متاع ظرف ہوتی تو قد آور ہو گئے ہوتے تو پھر تم بھی مرے قد کے برابر ہو گئے ہوتے ضرورت ہی نہیں تھی آپ کو مرہم لگانے کی تسلی ہی اگر دیتے تو گھاؤ بھر گئے ہوتے تمہیں الجھا کے رکھا ہے تمناؤں کے دلدل نے اگرچہ نفس سے لڑتے قلندر ہو گئے ہوتے اگر یہ زندگی روشن ضمیروں میں بسر ہوتی ستاروں کی ...

مزید پڑھیے

چھپا کر عشق کی خوشبو کو تو رکھا نہیں جاتا

چھپا کر عشق کی خوشبو کو تو رکھا نہیں جاتا نظر اس کو بھی پڑھ لیتی ہے جو لکھا نہیں جاتا بہت ہلچل سی ہوتی ہے ہمارے خون میں یارو کسی پر ظلم ہو تو ہم سے وہ دیکھا نہیں جاتا کسی کی بد دعا اس کی ترقی روک دیتی ہے تکبر کا شجر پھلتا ہے پر اونچا نہیں جاتا بہانے نت نئے ہر دن بنا کرتے ہو تم ...

مزید پڑھیے

درد بھی ہو زیادہ تو کم کم لگے

درد بھی ہو زیادہ تو کم کم لگے تو نمک بھی لگائے تو مرہم لگے کتنی پیاری محبت کی سرگم لگے ننھی بٹیا کے پائل کی چھم چھم لگے جب بھی پیتا ہوں مجھ کو خدا کی قسم ماں کے ہاتھوں کا پانی بھی زمزم لگے جب تلک تم مرے ساتھ چلتے رہے مجھ کو راہوں کے کانٹے بھی ریشم لگے تم اگر ساتھ ہوں تو خزاں بھی ...

مزید پڑھیے

نہیں ہے پاس مگر تو دکھائی دیتا ہے

نہیں ہے پاس مگر تو دکھائی دیتا ہے ترا خیال مجھے کب رہائی دیتا ہے ترے لبوں سے ادا ہو اگر کوئی جملہ مجھے وہ شعر کی صورت سنائی دیتا ہے مرا گمان بدل جاتا ہے حقیقت میں بغیر پوچھے جب اپنی صفائی دیتا ہے گھٹا بھی دے یہ جدائی کا بے ثمر موسم بھلا تو کیوں مجھے زخم جدائی دیتا ہے قریب آ کے ...

مزید پڑھیے

دل کا دفتر جلا کے دیکھا ہے

دل کا دفتر جلا کے دیکھا ہے خون اپنا بہا کے دیکھ ہے ایک رتی بھی نہیں وہ با ذوق شعر ہم نے سنا کے دیکھا ہے کارگر کچھ بھی نہیں ہو پایا اپنا سب کچھ لٹا کے دیکھا ہے ان کے دل میں نہیں مری چاہت ہاتھ ہم نے دبا کے دیکھا ہے روشنی پھر بھی ہو نہیں پائی ہم نے دل تک جلا کے دیکھا ہے بھولتا ہی ...

مزید پڑھیے

محبت کے سفر کو ہر گھڑی دشوار کرتا تھا

محبت کے سفر کو ہر گھڑی دشوار کرتا تھا وہ ہر اک راستے کو میرے نا ہموار کرتا تھا غزل لکھ کر تری دیوار پر لٹکا کے جب آتا تو ساری رات پھر گریہ در و دیوار کرتا تھا مرے احساس کو چھلنی کیے دیتا تھا ہر لمحہ یہ کار خیر میرے شہر کا اخبار کرتا تھا جسے تم چاہ کر بھی پار ہرگز کر نہیں پائے میں ...

مزید پڑھیے

بند مٹھی سے نکل جاتے ہو حد کرتے ہو

بند مٹھی سے نکل جاتے ہو حد کرتے ہو سپنے بھر بات ہی منواتے ہو حد کرتے ہو جسم کی ایسی مہک جو مجھے پاگل کر دے بن کے خوشبو مجھے مہکاتے ہو حد کرتے ہو کیا کہوں کون سا جادو ہے ترے ہاتھوں میں مرے بالوں کو جو سہلاتے ہو حد کرتے ہو جان من ایک گھڑی دیکھ کہ دل دکھتا ہے چھوڑ کر جب مجھے گھر جاتے ...

مزید پڑھیے

جب محبت کی کوئی نظم سنائی میں نے

جب محبت کی کوئی نظم سنائی میں نے آگ بہتے ہوئے پانی میں لگائی میں نے وقت رخصت مرا دل ڈوب رہا ہے لیکن پھر بھی آنکھوں میں نمی آج نہ لائی میں نے کچھ صلہ مل نہیں پایا ترے دیوانے کو شہر کی تیرے عبث خاک اڑائی میں نے یک بہ یک چار سو کھلنے لگے تن من میں گلاب اس کی تصویر جو سینے سے لگائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4211 سے 5858