نفرت کی آندھیوں کو محبت میں ڈھال کر
نفرت کی آندھیوں کو محبت میں ڈھال کر تنہا کھڑی ہوں دشت میں رشتے سنبھال کر مجھ کو تو تیرے درد بھی تجھ سے عزیز ہیں بیٹھی ہوں دیکھ پیار سے جھولی میں ڈال کر تعبیر ڈھونڈتے ہوئے رستہ بھٹک گئیں خوابوں سمیت پھینک دیں آنکھیں نکال کر شہرت کما رہے ہو تم اخبار کی طرح اپنے پرائے لوگوں کی ...