شاعری

سب جیت کر بھی مات سے آگے نہیں گیا

سب جیت کر بھی مات سے آگے نہیں گیا وہ شخص میری ذات سے آگے نہیں گیا نا ممکنات سے ہی تھا آغاز زندگی بزدل تو ممکنات سے آگے نہیں گیا ٹھہرا ہے وقت آج بھی بچھڑے تھے ہم جہاں اک پل بھی غم کی رات سے آگے نہیں گیا عمروں کا انتظار وہ جھولی میں ڈال کر دو چار پل کے ساتھ سے آگے نہیں گیا غم ہجر ...

مزید پڑھیے

کب گوارہ تھی زمانے کی کوئی بات مجھے

کب گوارہ تھی زمانے کی کوئی بات مجھے وہ تو لے آئی یہاں گردش حالات مجھے روک سکتی ہوں اسے روز قیامت تک بھی سنگ تیرے جو ملے پیار کی اک رات مجھے آخری گام تلک جیت ہی سمجھی میں نے بڑی تدبیر سے لائی ہے مری مات مجھے لوگ جس کار اذیت میں مرے جاتے ہیں زندہ رکھتے ہیں وہی ہجر کے لمحات ...

مزید پڑھیے

دیکھیے حالات کے جوگی کا کب ٹوٹے شراپ

دیکھیے حالات کے جوگی کا کب ٹوٹے شراپ شاید اب اس عہد میں اس سے نہ ہو میرا ملاپ صاحب امروز افسردہ مزاج و مشتعل گردش حالات کو پیمانۂ فردا سے ناپ سایۂ افکار میں کانٹے سہی چھاؤں تو ہو ذہن کی آغوش سے باہر نکلنا اب ہے پاپ دل سے ذوق جرم محنت کہہ رہا ہے بار بار آتش احساس کے شعلوں سے بھی ...

مزید پڑھیے

منور جسم و جاں ہونے لگے ہیں

منور جسم و جاں ہونے لگے ہیں کہ ہم خود پر عیاں ہونے لگے ہیں بظاہر تو دکھائی دے رہے ہیں بباطن ہم دھواں ہونے لگے ہیں جنہیں تاریخ بھی لکھتے ڈرے گی وہ ہنگامے یہاں ہونے لگے ہیں بہت سے لوگ کیوں جانے اچانک طبیعت پر گراں ہونے لگے ہیں فضا میں مرتعش بھی بے اثر بھی ہم آواز اذاں ہونے لگے ...

مزید پڑھیے

مضطرب دل کی کہانی اور ہے

مضطرب دل کی کہانی اور ہے کوئی لیکن اس کا ثانی اور ہے اس کی آنکھیں دیکھ کر ہم پر کھلا یہ شعور حکمرانی اور ہے یہ جو قاتل ہیں انہیں کچھ مت کہو اس ستم کا کوئی بانی اور ہے عمر بھر تم شاعری کرتے رہو زخم دل کی ترجمانی اور ہے حوصلہ ٹوٹے نہ راہ شوق میں غم کی ایسی میزبانی اور ہے مدعا ...

مزید پڑھیے

کسی کے سامنے اس طرح سرخ رو ہوگی

کسی کے سامنے اس طرح سرخ رو ہوگی نگاہ خون تمنا سے با وضو ہوگی بروز حشر کھڑے ہونگے منصفی کے لیے خدا ملا تو مقابل سے گفتگو ہوگی تمام عمر کے زخموں کا ہے حساب کتاب ہماری فرد عمل بھی لہو لہو ہوگی قبائے زیست جو ہے خارزار ہستی میں وہ کس کے سوزن تدبیر سے رفو ہوگی ہمیں پہ ختم ہیں جور و ...

مزید پڑھیے

اس کی دیوار پہ منقوش ہے وہ حرف وفا

اس کی دیوار پہ منقوش ہے وہ حرف وفا جس کی تعبیر کو خوابوں کا سہارا نہ ملا میری تنہائی سے اکتا کے ترا نام بھی کل اپنے مستقبل تاباں کی طرف لوٹ گیا جب خیالات مرا ساتھ نہیں دیتے ہیں دل میں در آتی ہے چپکے سے وہ مانوس صدا ایسے خوش رنگ سرابوں کا سہارا کب تک مسکراتا ہوں تو دیتی ہے تمنا ...

مزید پڑھیے

رو بھٹکنے لگے جب خیالات کی

رو بھٹکنے لگے جب خیالات کی منزلیں ہیں وہیں پر کمالات کی کس لئے آئے پوچھا ہمیں کس لئے کیا خبر ہو گئی ان کو حالات کی ہم تو چپ رہ گئے کچھ کہا بھی نہیں مسکرا کر اگر اس نے کچھ بات کی ہے تعجب کہ دامن بھگویا نہیں آنسوؤں کی مگر اس نے برسات کی پیار ہی پیار ہو کوئی مطلب نہ ہو قدر لیکن ...

مزید پڑھیے

آنسو ہے قیمتی جو ہماری پلک میں ہے

آنسو ہے قیمتی جو ہماری پلک میں ہے وہ بات پھر کہاں جو فقط اک جھلک میں ہے ہم بھی اسی طرح سے زمانے کے بیچ ہیں جس طرح سے وہ ایک ستارا فلک میں ہے گملوں میں پھول خوب سجائے ہیں آپ نے لیکن وہ بات کب جو چمن کی مہک میں ہے ہم کب یہ کہہ رہے ہیں نہیں آرٹسٹ آپ وہ بات تو نہیں ہے جو اوپر دھنک میں ...

مزید پڑھیے

یوں لگا دیکھ کے جیسے کوئی اپنا آیا

یوں لگا دیکھ کے جیسے کوئی اپنا آیا تھی نگاہوں میں جو صورت کوئی ویسا آیا دن گزارے تو بہت کاٹ دیئے ماہ و سال اپنے گھر میں نہ کوئی آپ کے جیسا آیا ایسا ماحول کہ پل بھر نہ جہاں رک پائے کیا کبھی آپ کو اس طرح بھی جینا آیا جو کیا ہم نے وہ سب تم نے بھلایا کیسے اتنے احسانوں کا بدلہ نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4212 سے 5858