شاعری

دل کی یہ آگ بجھا دی کس نے

دل کی یہ آگ بجھا دی کس نے بھیگے دامن کی ہوا دی کس نے بیٹھ جاتا تھا میں جس سے لگ کر وہی دیوار گرا دی کس نے میری آواز پہ بولا نہ کوئی چل پڑا میں تو صدا دی کس نے اب تکانوں کا سفر ہے میں ہوں آنکھ سے نیند اڑا دی کس نے اپنے ہی ہاتھ سے فرخؔ مجھ کو زہر پینے کی سزا دی کس نے

مزید پڑھیے

یوں مسلط تو دھواں جسم کے اندر تک ہے

یوں مسلط تو دھواں جسم کے اندر تک ہے دسترس آنکھ کی لیکن کسی منظر تک ہے مڑ کے دیکھوں تو تعاقب میں وہی سایہ ہو بھول جاؤں مرے ہم راہ کوئی گھر تک ہے میں کہ ویران جزیرہ ہوں بسا دے مجھ کو اے کہ اقلیم تری سات سمندر تک ہے اس کے آگے مجھے بے سمت و نشاں جانا تھا میں نے سمجھا تھا سفر آخری پتھر ...

مزید پڑھیے

اب کے جنوں ہوا تو گریباں کو پھاڑ کر

اب کے جنوں ہوا تو گریباں کو پھاڑ کر دنیا کو چھوڑ جاؤں گا دامن کو جھاڑ کر یہ آئنہ فریب نظر ہے بہت نہ دیکھ اک روز تجھ کو پیش کرے گا بگاڑ کر مہماں سرائے جاں میں کوئی ٹھیرتا نہیں جب سے چلا گیا اسے کوئی اجاڑ کر فرخؔ ہوا ہے تیز قدم کو جما کے رکھ ورنہ یہ پھینک دے گی تجھے بھی اکھاڑ کر

مزید پڑھیے

ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں

ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں ہیں کم سخن ضرور پہ عاجز بیاں نہیں ہر چند جانتے ہیں اسے ہم قریب سے پر کیا کریں کہ پاۓ سخن درمیاں نہیں اچھا تو ایک پل کے لئے ہی اٹھا کے دیکھ اے آسماں جو بار امانت گراں نہیں خود ہم میں تاب دید نہیں ہے یہ اور بات رہتا ہے وہ نگاہ کے آگے کہاں ...

مزید پڑھیے

تمام پھینکے گئے پتھروں پہ بھاری تھا

تمام پھینکے گئے پتھروں پہ بھاری تھا وہ ایک پھول اکیلا سبھوں پہ بھاری تھا نہ مجھ سے دل نے بتایا نہ میں نے ہی جانا وہ کیسا غم تھا جو سارے غموں پہ بھاری تھا میں ان کی رہ سے گزرتا نہ تھا مگر پھر بھی مرا وجود مرے دشمنوں پہ بھاری تھا اگرچہ بیٹھا تھا میں ان کے درمیاں خاموش مرا سکوت مگر ...

مزید پڑھیے

کٹی پہاڑ سی شب انتظار کرتے ہوئے

کٹی پہاڑ سی شب انتظار کرتے ہوئے ہوئی تمام سحر آہ سرد بھرتے ہوئے تھے اس کے ہاتھ لہو میں ہمارے غرق مگر ذرا بھی شرم نہ آئی اسے مکرتے ہوئے ہوا چلی تو پریشاں ہوئے شجر اوراق مگر نہ تھے وہ ہماری طرح بکھرتے ہوئے کبھی ادھر سے جو گزریں تو یاد آتا ہے یہ کہ اس کو دیکھتا تھا اس راہ سے گزرتے ...

مزید پڑھیے

کوئی فہرست لفظوں کی یا گوگل کو کھنگالے گا

کوئی فہرست لفظوں کی یا گوگل کو کھنگالے گا وہ میری چپ سے اب کوئی نیا مطلب نکالے گا مقابل کر دیا اس کے اگر آئینہ میں نے تو زباں سے زہر اگلے گا کوئی پتھر اٹھا لے گا مجھے معلوم ہے اس تک تو خالی خط ہی جائے گا مرا قاصد ہی دیمک بن کے لفظوں کو اڑا لے گا ذرا دامن کو پھیلایا کئی لوگوں نے ...

مزید پڑھیے

مرہم بھی مرے زخم کا آزار سے نکلا

مرہم بھی مرے زخم کا آزار سے نکلا اقرار کا پہلو ترے انکار سے نکلا تھا تیری رعونت کے پس پردہ کوئی اور سر اور کسی کا تری دستار سے نکلا کس شخص کی رہ دیکھنے بیتاب سا ہو کر سایا کبھی در سے کبھی دیوار سے نکلا یادوں کے کسی باب میں رکھا ہوا کوئی خواب سوکھے ہوئے اک پھول کی مہکار سے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو صدا نہ دیں نہ ستائیں محبتیں

مجھ کو صدا نہ دیں نہ ستائیں محبتیں میری بلا سے بھاڑ میں جائیں محبتیں پہنیں گے ہم کبھی نہ یہ مانگی ہوئی قبا جائیں یہاں سے اپنی اٹھائیں محبتیں بیٹھے رہیں غرور میں اپنی انا کے ساتھ رکھیں سنبھال کر یہ وفائیں محبتیں کہنا کہ اب کسی کی ضرورت نہیں رہی تھک ہار کر جو لوٹ کے آئیں ...

مزید پڑھیے

صرف کاغذ کے پھول ہوتے ہیں

صرف کاغذ کے پھول ہوتے ہیں لوگ آنکھوں کی دھول ہوتے ہیں یہ کوئی موڑ ہے جدائی کا واپسی کے اصول ہوتے ہیں ایک پتھر سے بارہا ٹھوکر یہ بھروسے بھی بھول ہوتے ہیں جب تلک تم نظر نہیں آتے سارے موسم فضول ہوتے ہیں دل صحیفہ ہے اک محبت کا اور چہرے رسول ہوتے ہیں سارے مخلص ہی آب دیدہ ہیں آپ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4209 سے 5858