شاعری

دنیا کیا ہے برف کی اک الماری ہے

دنیا کیا ہے برف کی اک الماری ہے ایک ٹھٹھرتی نیند سبھی پر طاری ہے کہرا اوڑھے اونگھ رہے ہیں خستہ مکاں آج کی شب بیمار دیوں پر بھاری ہے سب کانوں میں اک جیسی سرگوشی سی ایک ہی جیسا درد زباں پر جاری ہے شام کی تقریبات میں حصہ لینا ہے کچا رستہ دھول اٹی اک لاری ہے گوری چٹی دھوپ بلائے ...

مزید پڑھیے

دن کو تھے ہم اک تصور رات کو اک خواب تھے

دن کو تھے ہم اک تصور رات کو اک خواب تھے ہم سمندر ہو کے بھی اس کے لئے پایاب تھے سرد سے مرمر پہ شب کو جو ابھارے تھے نقوش صبح کو دیکھا تو سب عکس ہنر نایاب تھے وہ علاقے زندگی بھر جو نمی مانگا کئے کل گھٹائیں چھائیں تو دیکھا کہ زیر آب تھے اک کرن بھی عہد میں ان کے نہ بھولے سے ملی دن کے جو ...

مزید پڑھیے

ہم کو راہ عاشقی میں زندگی کا غم نہ تھا

ہم کو راہ عاشقی میں زندگی کا غم نہ تھا مرحلہ در مرحلہ غم عاشقی ہی کم نہ تھا دھیرے دھیرے سیکھ لی ہم نے نگاہوں کی زباں ان کا انداز تکلم بھی بہت مبہم نہ تھا شہر کا عالم کہ جیسے سب یہاں پتھر کے ہوں خون انساں بہہ رہا تھا اور کسی کو غم نہ تھا کیوں چرا لیتے ہیں نظریں آتے جاتے لوگ ...

مزید پڑھیے

گھر نہ در کچھ نہیں رہا محفوظ

گھر نہ در کچھ نہیں رہا محفوظ ہے غنیمت کہ سر رہا محفوظ لٹ گیا دل تو کیا رہا محفوظ ان کا غم میرا حوصلہ محفوظ رہنماؤں کی ہم کو حاجت کیا ہم نے رکھا ہے حوصلہ محفوظ عشق پیہم سے چشم پر نم سے کوئی دنیا میں کب رہا محفوظ ہم کو منکر نہ تو سمجھ واعظ دل میں ہر سمت ہے خدا محفوظ آپ پر مٹ کے ہم ...

مزید پڑھیے

ابھی تک یاد ہے مجھ کو مرا سرشار ہو جانا

ابھی تک یاد ہے مجھ کو مرا سرشار ہو جانا نظر کا ناگہاں اٹھنا ترا دیدار ہو جانا مری ہستی کا حاصل بن گیا وہ قیمتی لمحہ وہ اک ٹک دیکھنا ان کا مرا گلنار ہو جانا وہی لمحہ غنیمت جانیے جو ہنس کے کٹ جائے سکوں کھونا ہے یکسر زندگی کا بار ہو جانا ابھی کل کھیلتے پھرتے تھے آنکھیں میچ کر ہم ...

مزید پڑھیے

تنہا چھوڑ کے جانے والے اک دن پچھتاؤ گے

تنہا چھوڑ کے جانے والے اک دن پچھتاؤ گے آس کا سورج ڈوب رہا ہے لوٹ کے گھر کب آؤ گے نفرت کو محصور کیا ہے الفت کی دیواروں میں جن راہوں سے گزرو گے تم پیار کی خوش بو پاؤگے دل کی ویراں نگری پہ اب غم کے بادل چھائے ہیں دکھ کی کالی رات میں بولو کب تک ساتھ نبھاؤ گے کوئل تو پتھر کے ڈر سے آخر ...

مزید پڑھیے

اک طرف چاک پہ کوزے کو گھمانے کا ہنر

اک طرف چاک پہ کوزے کو گھمانے کا ہنر اک طرف ہاتھ پہ روٹی کو بڑھانے کا ہنر کبھی لہجے پہ خفا تو کبھی کردار پہ شک تم نے سیکھا ہی نہیں عشق کمانے کا ہنر تم نے پہنا ہی نہیں میرا پسندیدہ لباس تم کو آیا ہی نہیں پاس بلانے کا ہنر اس نے تصویر کو صوفے کے مقابل ٹانگا خوب آتا ہے اسے کمرہ سجانے ...

مزید پڑھیے

مانوس فضاؤں سے نکلتے ہوئے کچھ لوگ

مانوس فضاؤں سے نکلتے ہوئے کچھ لوگ گمراہ ہوئے گھر کو مچلتے ہوئے کچھ لوگ تم نرم سماعت پہ دھرو ہاتھ کہ ہم آگ اشعار کی صورت میں اگلتے ہوئے کچھ لوگ دوبارہ بنے تو نہیں ٹوٹیں گے کسی سے ہم وصل کی حدت سے پگھلتے ہوئے کچھ لوگ منظر میں نہ ہونے کا تأسف ہے انہیں کیا اک سمت کھڑے ہاتھ مسلتے ...

مزید پڑھیے

اب کے حسن نظر کتابوں پر

اب کے حسن نظر کتابوں پر چند سطریں ہیں پر کتابوں پر لفظ بن کے وہ اشک مہکے صبح جو گرے رات بھر کتابوں پر میں سہولت سے کاٹ آئی ہوں زندگی کا سفر کتابوں پر روح لفظوں سے پھونکتے ہو تم اک غزل چارہ گر کتابوں پر تیرے وعدوں پر اعتبار آیا اس سے بھی پیشتر کتابوں پر کوئی کاندھا کہاں میسر ...

مزید پڑھیے

تمہارے آنے کا پیش خیمہ بنا کرے گا

تمہارے آنے کا پیش خیمہ بنا کرے گا یہ پھول اکثر اسی بہانے کھلا کرے گا پھر اس کی ضد میں خدا بھی بتلاؤ کیا کرے گا جو اسم اعظم سے عشق کی ابتدا کرے گا میں سدرۃ المنتہیٰ پہ آ کے رکی ہوئی ہوں اب آگے جو بھی کرے گا میرا خدا کرے گا یہ لوگ خود کو ستم رسیدہ سمجھ رہے ہیں وہ گھاؤ دکھلا کے زخم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4205 سے 5858