شاعری

کہر کے اس پار دیکھ

روشنی نکھری ہوئی ہے کہر کے اس پار دیکھ تیرگی سہمی ہوئی ہے کہر کے اس پار دیکھ ہر طرف پھیلی ہوئی بارود کی ہے بو مگر فاختہ بیٹھی ہوئی ہے کہر کے اس پار دیکھ موسموں کی زردیوں سے اس قدر نہ خوف کھا بوئے گل مہکی ہوئی ہے کہر کے اس پار دیکھ بے سکونی بے قراری سب کے سب ہیں عارضی بے خودی ...

مزید پڑھیے

آرزو

یہ رضائے رب جلیل تھی کہ نبی نے سیر کی عرش کی کوئی سویا سایہ تیغ میں تو رضائے رب جلی ملی کبھی طور پہ ہوئی انتہا کہ خدا بھی جلوہ نما ہوا کبھی رحمتوں کا نزول تھا کبھی عشق کا یہ حصول تھا کہ نہایت اس کی حسین تھا کہیں آرزوئے وطن ہوئی کہیں خامشی بھی سخن ہوئی کہیں چاہتوں کا خراج تھا

مزید پڑھیے

اک ستاروں بھری رات

اک ستاروں سے بھری خواب سی مہکار سی رات لان میں بکھری ہوئی چاند کی بیکل کرنیں وقت ساکن تھا یا لمحہ تھا کوئی ٹھہرا ہوا ذہن میں سمٹی ہوئی سوچ ابھرنے سی لگی آنکھ جھپکی تو میں کیا دیکھتی ہوں وسعت شب پہ وہ چھایا ہوا تنہا تنہا مجھ کو اپنا سا لگا میری جانب کسی بڑھتے ہوئے اک سائے نے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

رات کافی لمبی تھی دور تک تھا تنہا میں

رات کافی لمبی تھی دور تک تھا تنہا میں اک ذرا سے روغن پر کتنا جلتا بجھتا میں سب نشان قدموں کے مٹ گئے تھے ساحل سے کس کے واسطے آخر ڈوبتا ابھرتا میں میرا ہی بدن لیکن بوند بوند کو ترسا دست اور صحرا پر ابر بن کے برسا میں ادھ جلے سے کاغذ پر جیسے حرف روشن ہوں اس کی کوششوں پر بھی ذہن سے ...

مزید پڑھیے

چھاؤں کی شکل دھوپ کی رنگت بدل گئی

چھاؤں کی شکل دھوپ کی رنگت بدل گئی اب کے وہ لو چلی ہے کہ صورت بدل گئی ہنسنا ہنسانا اپنا مشینی عمل ہوا بدلی ہوائے شہر تو عادت بدل گئی اچھا سا سوٹ جسم پر اپنے سجا کے وہ خوش ہے کہ جیسے گھر کی بھی حالت بدل گئی سر کو چھپایا پاؤں بھی کھلنے نہیں دیا خواہش بڑھی تو اپنی ضرورت بدل ...

مزید پڑھیے

اجڑے نگر میں شام کبھی کر لیا کریں

اجڑے نگر میں شام کبھی کر لیا کریں مجھ سے دعا سلام کبھی کر لیا کریں جنگل کے پھول ہی سہی لیکن ہیں کام کے ساتھ ان کے بھی قیام کبھی کر لیا کریں ہر راہ صاف سیدھی نہیں پر خطر بھی ہے سورج چھپے تو شام کبھی کر لیا کریں موسم ہے خوش گوار تو شاخیں بھی سر پہ ہیں ان کا بھی احترام کبھی کر لیا ...

مزید پڑھیے

وہ الگ چپ ہے خود سے شرما کر

وہ الگ چپ ہے خود سے شرما کر کیا کیا میں نے ہاتھ پھیلا کر پھل ہر اک ڈال پر نہیں ہوتے سنگ ہر ڈال پر نہ پھینکا کر تازہ رکھنے کی کوئی صورت سوچ سوکھے لب پر زباں نہ پھیرا کر دشت سورج میں کیا ملا ہم کو رہ گیا رنگ اپنا سنولا کر مٹ نہ جائے کہیں وجود ترا خود کو فرصت میں چھو کے دیکھا ...

مزید پڑھیے

کھڑکیوں پر ملگجے سائے سے لہرانے لگے

کھڑکیوں پر ملگجے سائے سے لہرانے لگے شام آئی پھر گھروں میں لوگ گھبرانے لگے شہر کا منظر ہمارے گھر کے پس منظر میں ہے اب ادھر بھی اجنبی چہرے نظر آنے لگے دھوپ کی قاشیں ہرے مخمل پہ ضو دینے لگیں سائے کمروں سے نکل کر صحن میں آنے لگے جگنوؤں سے سج گئیں راہیں کسی کی یاد کی دن کی چوکھٹ پر ...

مزید پڑھیے

پو پھٹی ایک تازہ کہانی ملی

پو پھٹی ایک تازہ کہانی ملی خیریت اس کی دن کی زبانی ملی کوئی راحت نہ ہم کو زمینی ملی جو بھی سوغات تھی آسمانی ملی قید دیوار و در سے جو محفوظ ہے ایسے گھر کی ہمیں پاسبانی ملی کوئی پتا نہ کھڑکا کہیں رات بھر ہر طرف خوف کی حکمرانی ملی اور بھی لوگ تھے شہر بیمار میں اک ہمیں کو مگر ...

مزید پڑھیے

دھیرے دھیرے شام کا آنکھوں میں ہر منظر بجھا

دھیرے دھیرے شام کا آنکھوں میں ہر منظر بجھا اک دیا روشن ہوا تو اک دیا اندر بجھا وہ تو روشن قمقموں کے شہر میں محصور تھا سخت حیرت ہے کہ ایسا آدمی کیوں کر بجھا اس سیہ خانے میں تجھ کو جاگنا ہے رات بھر ان ستاروں کو نہ بے مقصد ہتھیلی پر بجھا ذہن کی آوارگی کو بھی پناہیں چاہیئے یوں نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4204 سے 5858