یاد رکھتے کس طرح قصے کہانی لوگ تھے
یاد رکھتے کس طرح قصے کہانی لوگ تھے وہ یہاں کے تھے نہیں وہ آسمانی لوگ تھے سوکھے پیڑوں کی قطاریں روکتیں کب تک انہیں اڑ گئے کرتے بھی کیا برگ خزانی لوگ تھے زندگی آنکھوں پہ رکھ کر ہاتھ پیچھے چھپ گئی درمیاں رہ کر بھی سب کے آنجہانی لوگ تھے کل یہیں پر لہلہاتی تھیں ہنسی کی کھیتیاں کل ...