مجھ سے مڑنے کی نیں کسی رو سے
مجھ سے مڑنے کی نیں کسی رو سے چشم رکھتا ہوں تیری ابرو سے اب تو بیٹھا میں نقش پا کی طرح کوئی اٹھتا ہے یار کی کو سے حسن سیرت ہے لازم محبوب خوبیٔ گل ہے خوبیٔ بو سے عشق میں درد سے ہے حرمت دل چشم کو آبرو ہے آنسو سے
مجھ سے مڑنے کی نیں کسی رو سے چشم رکھتا ہوں تیری ابرو سے اب تو بیٹھا میں نقش پا کی طرح کوئی اٹھتا ہے یار کی کو سے حسن سیرت ہے لازم محبوب خوبیٔ گل ہے خوبیٔ بو سے عشق میں درد سے ہے حرمت دل چشم کو آبرو ہے آنسو سے
یوں تو دل ہر کدام رکھتا ہے اہل دل ہونا کام رکھتا ہے کب وہ طمع سلام رکھتا ہے مجھ سا لاکھوں غلام رکھتا ہے عشرت دو جہاں ہے اس کے ساتھ جو صراحی و جام رکھتا ہے ہے وہی خاص بزم دنیا میں جو مدارائے عام رکھتا ہے دین و دنیا کا جو نہیں پابند وہ فراغت تمام رکھتا ہے بت پرستوں کو کوئی کہے ...
کیا رفو کرنے لگا ہے جا بھی ناداں یک طرف پھٹ چلی چھاتی کوئی دم میں گریباں یک طرف چاندنی میں کل نکل بیٹھا تھا وہ خورشید رو دیکھتا تھا میں کھڑا گوشے میں پنہاں یک طرف طرفہ حالت تھی کبھی ہم نے نہ دیکھا تھا حضورؔ ماہ تاباں یک طرف مہر درخشاں یک طرف
ہر شجر کے تئیں ہوتا ہے ثمر سے پیوند آہ کو کیوں نہیں ہوتا ہے اثر سے پیوند دیکھنا زور ہی گانٹھا ہے دل یار سے دل سنگ و شیشے کو کیا ہے میں ہنر سے پیوند مژۂ خون دل آلودہ پہ یہ ہے قطرۂ اشک یوں ہے جیوں شاخ ہو مرجاں کی گہر سے پیوند مل رہا ہے ترے عارض سے خط مورچہ یہ جیسے آئینے کے ...
جب بازار گیا تھا تو اچھاؤں کا کھیت تھا آنکھوں میں لہراتا ہوا سپنوں کا سمدر تھا بازار سے لوٹا ہوں اب تو گھر گرہستی کی اچھا سپنا بن کر سامنے کھڑی ہے مجھے ڈر ہے میرے پیچھے بازار سے لوٹنے والا میرا پڑوسی سپنا نہ بن جائے
بوڑھا خوش تھا پل پر کھڑا ہوا اپنی پرچھائیں کو جیوں کی تیوں دیکھ کر پانی میں تبھی ایک لڑکا آیا اور اس نے ڈھیلا دے مارا اب بوڑھے کی اداس پرچھائیاں کانپ رہی تھیں لڑکے کی آنکھوں میں پانی میں نہیں لیکن ابھی لڑکا اس بوڑھے کی طرح خوش نہیں تھا اور نہ ہی وہ اپنی پرچھائیں دیکھ رہا تھا ...
شاہ وقت کا اپنا کوئی چہرہ نہیں ہوتا ہم خادموں نے ہی اس کے چہرے کو اس قدر سنوار دیا ہے کہ آئنے کے سامنے گھنٹوں کھڑے رہ کر وہ خود بینی کر سکے چہرے کے بھیتر دیکھو آئینہ در آئینہ چہرہ وقت کے پار دوستو ہم خود ہی چہرے ہیں اور اپنے آئینے بھی خود ہیں ہم سب کے چہروں میں ہی وقت کا بے رحم ...
جاتی ہوئی دھوپ میں بیٹھے بتیاتے یہ پہاڑی لوگ مجھے لگتا ہے اپنے دکھوں کو سیک سیک کر سکھوں میں بدل رہے ہیں گنگناتے ہوئے جو دیکھتے دیکھتے چھیج جائیں گے سرکتی ہوئی دھوپ کی طرح کیا سکھ کو دھوپ کے ٹکڑوں کی طرح تھوڑی دیر تک اور ٹھہرایا نہیں جا سکتا سوچتے سوچتے میں چلتا ہوں چل دیتا ہوں ...
بھوک کے شیشے بھی دھندھلے پڑ چکے ہیں اب شیشہ تو ذریعہ تھا اٹھے ہوئے ہاتھوں اور سوئے ہوئے بد رنگ دھبوں کے بیچ آر پار دیکھنے کا بندھی ہوئی مٹھی اور پھیلے ہوئے ہاتھوں کے بیچ چپ اور چلاتے ہوئے ہاتھوں کے بیچ روٹی ایک رشتہ تھی اور یہ رشتہ بھی بھوک کے شیشوں کی طرح دھندھلا ہوتا جا رہا ...
دکھ ندی ہے گہری سمرتیوں کی بہتی رہی بے آواز تھکی ٹوٹی اکیلے پن سے پر کہاں ٹھہری