شاعری

توڑ کر شیشۂ دل کو مرے برباد نہ کر

توڑ کر شیشۂ دل کو مرے برباد نہ کر اس طرح مجھ پہ ستم اے ستم ایجاد نہ کر یہ نگہ لطف کی ہے اس سے نہ کر قتل مجھے چشم جاں بخش کو یوں خنجر جلاد نہ کر روئے روشن کی کبھی دید مجھے بھی دیدے رہ کے پوشیدہ مجھے مضطر و ناشاد نہ کر تیرے ہی دل کا اگر گوشہ قفس ہے صیاد پھر تو ہرگز مجھے اس قید سے آزاد ...

مزید پڑھیے

جس طرف بھی دیکھیے سایہ نہیں

جس طرف بھی دیکھیے سایہ نہیں پھر بھی گلشن ہے کوئی صحرا نہیں لوگ بیٹھے ہیں اسی کی چھاؤں میں سائے سے جس پیڑ کا رشتہ نہیں کام اگر آئے نگاہ حق شناس پھر کسی پہلو کوئی دھوکا نہیں حق پسند میرا دستور عمل یعنی بک جانا مرا شیوہ نہیں دوستو رکھو حقیقت پر نظر خواب آنکھوں میں کبھی پلتا ...

مزید پڑھیے

جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگی

جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگی کافر ہو جس کے دل میں ہو ارمان زندگی حسرت وصال کی ہے گلو گیر ہجر میں ورنہ ابھی میں پھاڑوں گریبان زندگی مرتا جو ہجر میں تو نہ ملتا میں یار سے مجھ پر حضورؔ بس کہ ہے احسان زندگی

مزید پڑھیے

آبرو الفت میں اگر چاہئے

آبرو الفت میں اگر چاہئے رکھنی سدا چشم کو تر چاہئے دل تو تجھے دے ہی چکے جان بھی لیجئے حاضر ہے اگر چاہئے یار ملے یا نہ ملے صبح و شام کوچۂ جاناں میں گزر چاہئے نام بھی نم کا نہ رہا چشم میں اب تو گریے لخت جگر چاہئے تیر نگہ وہ ہے کہ جس تیر کے سامنے ہونے کو جگر چاہئے اب کی بچے جی تو ...

مزید پڑھیے

محزوں نہ ہو حضورؔ اب آتا ہے یار اپنا

محزوں نہ ہو حضورؔ اب آتا ہے یار اپنا کرتا ہے فضل تجھ پر پروردگار اپنا جب سے گیا وہ مہ رو آغوش سے ہماری رہتا ہے جیوں مہ نو خالی کنار اپنا زلف و رخ صنم کے غم میں سدا رہے ہم گزرا ہمیشہ یوں ہی لیل و نہار اپنا اے بے خودیٔ مے تو آ دوش پر اٹھا لے اٹھتا نہیں مجھ سے اب بوجھ بھار ...

مزید پڑھیے

دل بہ از کعبہ ہے یاراں جبہ سائی چاہیے

دل بہ از کعبہ ہے یاراں جبہ سائی چاہیے ہے خدا کا گھر یہی لیکن صفائی چاہیے داد حق دیکھا تو مطلق نیں ہے محتاج سوال ہے وہاں بخشش ہی بخشش بے نوائی چاہیے یار کی نا مہربانی پر نہ کیجے کچھ خیال جو ہیں محبوب ان کے تئیں بے اعتنائی چاہیے اپنے ہی گھر میں خدائی ہے جو کوئی سمجھے حضورؔ ہاں ...

مزید پڑھیے

جہاں میں کہاں باہم الفت رہی ہے

جہاں میں کہاں باہم الفت رہی ہے مگر صرف صاحب سلامت رہی ہے ہے افسوس اے عمر جانے کا تیرے کہ تو میرے پاس ایک مدت رہی ہے یہ طوفان اشک اس میں آنکھوں کی کشتی تعجب ہے کیوں کر سلامت رہی ہے اگرچہ تری یاد میں خوش ہوں لیکن ان آنکھوں سے دیکھوں یہ حسرت رہی ہے مت امید بوسے کی رکھ دلبروں ...

مزید پڑھیے

گلعذار اور بھی یوں رکھتے ہیں رنگ اور نمک

گلعذار اور بھی یوں رکھتے ہیں رنگ اور نمک پر مرے یار کے چہرے کا سا ڈھنگ اور نمک حسن اس شوخ کا ہے بس کہ ملیح اس کی نگاہ دل پہ کرتے ہیں مرے کار‌ خدنگ اور نمک غنچۂ گل میں و بلبل میں ہوئی بے مزگی دیکھ گلشن میں دہن یار کا تنگ اور نمک درد ہجراں سے بتنگ آپی ہوں ناصح سے کہو زخم پر میرے نہ ...

مزید پڑھیے

جو یوں آپ بیرون در جائیں گے

جو یوں آپ بیرون در جائیں گے خدا جانے کس کس کے گھر جائیں گے شب ہجر میں ایک دن دیکھنا اگر زندگی ہے تو مر جائیں گے عبث گھر سے اپنے نکالے ہے تو بھلا ہم تجھے چھوڑ کر جائیں گے مسافر ہیں لیکن نہیں جانتے کہاں سے ہم آئے کدھر جائیں گے تمنا میں بوسہ کی کہتا ہے جی بدن سے نکل بھی اگر جائیں ...

مزید پڑھیے

اشک آنکھوں کے اندر نہ رہا ہے نہ رہے گا

اشک آنکھوں کے اندر نہ رہا ہے نہ رہے گا یہ طفل ہے ابتر نہ رہا ہے نہ رہے گا منعم نہ ہو مغرور سدا پاس کسو کے سیم و زر و گوہر نہ رہا ہے نہ رہے گا گر عیش میسر ہو تو کر لیجے کم و بیش سب وقت برابر نہ رہا ہے نہ رہے گا آنکھوں سے اسی طرح اگر سیل رواں ہے دنیا میں کوئی گھر نہ رہا ہے نہ رہے گا جب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4061 سے 5858