شاعری

تیری آنکھوں میں جو نشہ ہے پذیرائی کا

تیری آنکھوں میں جو نشہ ہے پذیرائی کا رنگ بھر دے نہ مری زیست میں رسوائی کا تجھ کو افسون محبت کی ضرورت کیا تھی سحر کچھ کم تو نہیں تھا تری رعنائی کا دل تو کیا چیز ہے جاں اس پہ تصدق کر دوں یہ اگر عربدہ بھی ہو کسی ہرجائی کا سوچتا ہوں دل بیتاب پہ کیا گزرے گی سامنا ہو گیا گر پھر شب ...

مزید پڑھیے

بہت واقف ہیں لب آہ و فغاں سے

بہت واقف ہیں لب آہ و فغاں سے تبسم ہے کہاں لاؤں کہاں سے تصور بھول جاتا ہے خدا کو یہ ٹکرایا ہے جب آہ و فغاں سے یقیں ہونے کو ہے مایوسیوں پر توقع اٹھ رہی ہے آسماں سے مقفل ہو زباں جس بے نوا کی وہ کیوں کر کیا کہے اپنی زباں سے کہے کچھ بھی مگر پر سوز ہوگا ہمیں امید ہے اپنی زباں سے الٰہی ...

مزید پڑھیے

گلا کیا کروں اے فلک بتا مرے حق میں جب یہ جہاں نہیں

گلا کیا کروں اے فلک بتا مرے حق میں جب یہ جہاں نہیں کہوں کیسے حال دل ان سے میں مری ہلتی تک یہ زباں نہیں یہ بھنور ہیں بہر حیات کے میں ہوں خستہ حال و شکستہ دل مری ڈگمگاتی ہے ناؤ اب کہیں ملتا مجھ کو کراں نہیں تجھے ڈھونڈوں بھی تو کہاں کہ جب ہوں میں خود ہی ظلمت یاس میں مجھے بزم ہستی میں ...

مزید پڑھیے

شکوہ گلہ مطالبہ فریاد کچھ تو ہو

شکوہ گلہ مطالبہ فریاد کچھ تو ہو جینا اگر ہے اے دل برباد کچھ تو ہو شیرین و دل نواز کوئی خواب ہی سہی آخر تسلیٔ دل ناشاد کچھ تو ہو خوش آ سکی نہ لذت تحسین نا شناس تعریف بھی اگر ہو تو بنیاد کچھ تو ہو ہاں مسکراؤ کھل کے سر دار دوستو دل کش تمہارے قتل کی روداد کچھ تو ہو آؤ نا گائیں نغمۂ ...

مزید پڑھیے

کبھی کرم کبھی غیظ و غضب تو ہوگا ہی

کبھی کرم کبھی غیظ و غضب تو ہوگا ہی مزاج یار سلامت یہ سب تو ہوگا ہی کسی کے گھر میں بچھی ہو اگر صف ماتم کسی کی بزم میں جشن طرب تو ہوگا ہی تمہاری بات ہو یا ذکر حور و غلماں کا بیان شانہ و رخسار و لب تو ہوگا ہی ادب کے نام پہ ہوگی جو اتنی پابندی تو کوئی واقعہ سوئے ادب تو ہوگا ہی میں ...

مزید پڑھیے

غم ہی غم ہے پوشیدہ ہر خوشی کے پردے میں

غم ہی غم ہے پوشیدہ ہر خوشی کے پردے میں موت ہی نظر آئی زندگی کے پردے میں مسکرا رہے ہیں وہ مجھ سے پھیر کر نظریں کچھ نوازشیں بھی ہیں بے رخی کے پردے میں صفحۂ ادب اس کے نام کو جگہ دے گا جو کہے بڑی باتیں سادگی کے پردے میں مطمئن رہو یارو ہم کبھی کسی سے بھی دشمنی نہیں کرتے دوستی کے پردے ...

مزید پڑھیے

فلک میں اڑوں پاؤں میں زمیں بھی رہے

فلک میں اڑوں پاؤں میں زمیں بھی رہے زباں سے ہاں بھی کہوں ذہن سے نہیں بھی رہے ترے سوا بھی کسی اور کی زمین تھی کیا چمن میں دشت میں صحرا میں یا کہیں بھی رہے مری ہی خاک سر طور ہم کلام بھی ہو مری ہی خاک میں آذر پنہ گزیں بھی رہے وہ جس کے در پہ ہے یہ کائنات سجدہ ریز اسی کے در پہ خمیدہ مری ...

مزید پڑھیے

ہنر سے جائے کسی کے نہ فن سے جاتا ہے

ہنر سے جائے کسی کے نہ فن سے جاتا ہے لہو کا داغ کہیں پیرہن سے جاتا ہے بصد ادا نگہ سیم تن سے جاتا ہے جگر کے پار ہر اک تیر سن سے جاتا ہے نمود تیغ بدن معرکے کا جوہر ہے دکھا کے پیٹھ کہیں کوئی رن سے جاتا ہے رگوں میں سوز غم عشق سے لہو ہے رواں سو وحشی آگے نکل کر ہرن سے جاتا ہے مژہ پہ ہوتا ...

مزید پڑھیے

ایک زمانے میں جب ہم تم دونوں ہی جوشیلے تھے

ایک زمانے میں جب ہم تم دونوں ہی جوشیلے تھے اس دنیا کے سارے موسم ٹھنڈے تھے برفیلے تھے دیکھنے والے مال و زر کیا جان لٹایا کرتے تھے خد و خال بدن کے کتنے مہنگے تھے خرچیلے تھے سامنے اس کے جاتے تھے تو مہر بہ لب رہ جاتے تھے باہر سے ہم شوخ بہت تھے اندر سے شرمیلے تھے قسمت کا یہ کھیل بھی ...

مزید پڑھیے

کیف و سرور و مستی ہم سے خود میں ہیں مے خانہ ہم

کیف و سرور و مستی ہم سے خود میں ہیں مے خانہ ہم شیشہ ساغر ساقی مینا جام و سبو پیمانہ ہم ایک ذرا سی دیر ہوئی کیا اس کی گلی تک جانے میں تنہائی کی شکل میں اب تک بھرتے ہیں جرمانہ ہم جانے کون سا جادو تھا اس جھیل سی گہری آنکھوں میں دل جیسی نایاب سی شے تک دے آئے نذرانہ ہم جس نے چاہا جیسا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4046 سے 5858