شاعری

غم سے کس نے نجات پائی ہے

غم سے کس نے نجات پائی ہے ہنس کے جی لو تو کیا برائی ہے بات یہ اب سمجھ میں آئی ہے خامشی میں بڑی بھلائی ہے ہم ہیں رونق بڑھانے والوں میں انجمن آپ نے سجائی ہے زندگی دور دور ہے ایسے جیسے اپنی نہیں پرائی ہے آندھیوں کو کوئی خبر کر دے ہم نے اک شمع پھر جلائی ہے اب اسی کو بھلا سمجھ ...

مزید پڑھیے

ریت کا ڈھیر عمارت میں بدلنا چاہا

ریت کا ڈھیر عمارت میں بدلنا چاہا میں نے ہر خواب حقیقت میں بدلنا چاہا پہلے آئی مری تنہائی کی ساتھی بن کر پھر تری یاد نے وحشت میں بدلنا چاہا پیار کی روح سے محروم ہے وہ دل جس نے اپنی فطرت کو ضرورت میں بدلنا چاہا دیکھ دیرینہ روایات کا نازک شیشہ ٹوٹ جائے گا جو عجلت میں بدلنا ...

مزید پڑھیے

سوئے ارمانوں کو جگایا کس کی حسن آرائی نے

سوئے ارمانوں کو جگایا کس کی حسن آرائی نے کس کے پرتو سے روشن ہیں دل کے دھندلے آئینے محفل محفل کیوں نہ تمہارے تیر نظر کا چرچا ہو کتنی دعائیں دیں ہیں دل کے زخموں کی گہرائی نے میں جس جانب بھی مڑتا ہوں ان کو سامنے پاتا ہوں سارے پردے توڑ دئے ہیں اس دل کی بینائی نے دل کے صحرا سے پھر ...

مزید پڑھیے

زخم دیتی رہی ہے ذات نئے

زخم دیتی رہی ہے ذات نئے گل کھلاتی رہی حیات نئے دن روایات کا اسیر رہا خواب دیکھے ہر ایک رات نئے رہنما کس کو چن لیا تم نے پیش آئیں گے واقعات نئے دوستی رسم یا رواج نہیں آئے دن کیوں تکلفات نئے آپ کھو بیٹھے اعتبار اپنا کیا کروں میں یہ کاغذات نئے آج ہم فیصلوں کو کیوں ٹالیں کل نیا ...

مزید پڑھیے

روز روشن رہیں حالات ضروری تو نہیں

روز روشن رہیں حالات ضروری تو نہیں چاندنی رات ہو ہر رات ضروری تو نہیں برق گر جائے اگر گھر بھی جلا سکتی ہے اس کے پہلو میں ہو برسات ضروری تو نہیں دامن عشق میں رخشاں ہیں ہزاروں خوشیاں غم ہی ہو عشق کی سوغات ضروری تو نہیں مست آنکھوں سے بھی ہم پیاس بجھا سکتے ہیں بخشش‌ میر خرابات ...

مزید پڑھیے

رہ گئی لٹ کر بہار زندگی

رہ گئی لٹ کر بہار زندگی زندگی ہے سوگوار زندگی میری نظروں میں حسیں دھوکا ہے اک جس کو کہتے ہیں بہار زندگی کلفتیں کچھ تلخیاں کچھ حادثے اب یہی ہے یادگار زندگی مٹ رہا ہو جو کسی کے عشق میں پھر کہاں اس کو قرار زندگی تری الفت تیرا غم تیرا خیال کچھ یہی ہے کاروبار زندگی اپنا دل ہی جب ...

مزید پڑھیے

کیا بتاؤں آج وہ مجھ سے جدا کیوں کر ہوا

کیا بتاؤں آج وہ مجھ سے جدا کیوں کر ہوا مدتوں کا آشنا نا آشنا کیوں کر ہوا تیرے ہر نقش قدم پر جس نے سجدہ کر دیا تیری نظروں میں بھلا وہ بے وفا کیوں کر ہوا میری بربادی میں جس کا ہاتھ تھا وہ فتنہ گر پوچھتا ہے اب مجھے یہ حادثہ کیوں کر ہوا جس کے ہاتھوں نے جلایا گلستاں کا گلستاں اس کا ...

مزید پڑھیے

بات اپنوں کی کروں میں کسی بیگانے سے

بات اپنوں کی کروں میں کسی بیگانے سے کیوں بہک جاتے ہو تم غیر کے بہکانے سے راز کی بات ہے پوچھو کسی دیوانے سے عقدۂ عشق کھلا کب کسی فرزانے سے کیا کہے ان سے کوئی دل کی تمنا کیا ہے جان کر بھی جو بنے رہتے ہیں انجانے سے آن کی آن میں جل بجھ کے ہوا خاکستر کیا کہیں کہہ دیا کیا شمع نے پروانے ...

مزید پڑھیے

فصیل جسم کی اونچائی سے اتر جائیں

فصیل جسم کی اونچائی سے اتر جائیں تو اس خرابے سے ہم لوگ پھر کدھر جائیں ہوا بتاتی ہے گزرے گا کارواں کوئی کچھ اور دیر اسی راہ پر ٹھہر جائیں تمام دن تو لہو چاٹتا رہا سورج ہوئی ہے شام چلو اپنے اپنے گھر جائیں کبھی تو کوئی لہو کے دئیے جلائے گا چلو نشان قدم اپنا چھوڑ کر جائیں ابھی صدا ...

مزید پڑھیے

داستان درد دل اہل وفا کہنے لگے

داستان درد دل اہل وفا کہنے لگے یعنی ہر آواز کو تیری صدا کہنے لگے لیجئے پھر توڑ دی یاروں نے زنجیر سکوت لیجئے ہم زندگی کا مرثیہ کہنے لگے یہ بھی اپنی تنگ نظری کی ہے اک واضح دلیل ہم جو ہر چہرے کو اب اک آئنہ کہنے لگے پھر نئی تہذیب کا اک باب روشن ہو گیا لوگ پھر اب داستان ارتقا کہنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4047 سے 5858