شاعری

دیے سے لو نہیں پندار لے کر جا رہی ہے

دیے سے لو نہیں پندار لے کر جا رہی ہے ہوا اب صبح کے آثار لے کر جا رہی ہے ہمیشہ نوچ لیتی تھی خزاں شاخوں سے پتے مگر اس بار تو اشجار لے کر جا رہی ہے میں گھر سے جا رہا ہوں اور لکھتا جا رہا ہوں جہاں تک خواہش دیدار لے کر جا رہی ہے خلا میں غیب کی آواز نے چھوڑا ہے مجھ کو میں سمجھا تھا مجھے ...

مزید پڑھیے

زندگی کی روشنی کے استعارے خواب ہیں

زندگی کی روشنی کے استعارے خواب ہیں دیکھیے تعبیر کیا ہو کتنے پیارے خواب ہیں بخل ہے کرتے نہیں خوابوں کی خوشیوں میں شریک آؤ ہم دیتے ہیں تم کو جو ہمارے خواب ہیں جن کی آنکھیں تھی حقیقت کے تجسس میں مگن ان کا داماں دیکھیے سارے کے سارے خواب ہیں جاگتے میں سو رہا تھا ان کے جذبوں کا ...

مزید پڑھیے

محبت مر نہیں سکتی

محبت مر نہیں سکتی حقیقت پھر حقیقت ہے حقیقت مر نہیں سکتی خداوند محبت کی شریعت مر نہیں سکتی محبت مر نہیں سکتی بہر سو جبر و استبداد چاہے سولیاں گاڑے اتر آئیں بلائیں ہاتھ میں زہراب لے لے کر فضا بارود بن کر بھی سلگ اٹھے تو کیا ہوگا یہ وہ جذبہ ہے جو ذروں کے سینے میں نمو پائے یہ وہ نغمہ ...

مزید پڑھیے

تیرا خلوص دل تو محل نظر نہیں

تیرا خلوص دل تو محل نظر نہیں پر کچھ تو ہے جو تیری زباں میں اثر نہیں اب وہ نہیں ہے جلوۂ شام و سحر کا رنگ تیرا جمال شامل حسن نظر نہیں ہے مرکز نگاہ ابھی تک وہ آستاں یہ اور بات ہے کہ مجال سفر نہیں اڑ بھی چلیں تو اب وہ بہار چمن کہاں ہاں ہاں نہیں مجھے ہوس بال و پر نہیں ترک تعلقات خود ...

مزید پڑھیے

اپنے انجام سے ڈرتا ہوں میں

اپنے انجام سے ڈرتا ہوں میں دل دھڑکتا ہے کہ سچا ہوں میں میرا ساقی ہے بڑا دریا دل پھر بھی پیاسا ہوں کہ صحرا ہوں میں اور کس کو ہو مرے زہر کی تاب اپنے ہی آپ کو ڈستا ہوں میں کیوں کروں پیروی گوتم و قیس جب بھرے گھر میں بھی تنہا ہوں میں تھا وہ کچھ ہم سے زیادہ ہی مریض جس کا دعویٰ تھا ...

مزید پڑھیے

رنگینی ہوس کا وفا نام رکھ دیا

رنگینی ہوس کا وفا نام رکھ دیا خودداری وفا کا جفا نام رکھ دیا انسان کی جو بات سمجھ میں نہ آ سکی انساں نے اس کا حق کی رضا نام رکھ دیا خود غرضیوں کے سائے میں پاتی ہے پرورش الفت کو جس کا صدق و صفا نام رکھ دیا بے مہری حبیب کا مشکل تھا اعتراف یاروں نے اس کا ناز و ادا نام رکھ دیا فطرت ...

مزید پڑھیے

کس کو ہے حسن خداداد کا دعویٰ دیکھیں

کس کو ہے حسن خداداد کا دعویٰ دیکھیں کس کا چہرہ نہیں منت کش غازہ دیکھیں جو مقدر ہے وہ انجام تمنا دیکھیں دل وحشت زدہ چل آج اسے جا دیکھیں دل یہ کہتا ہے کہ حسن اس کا جہاں تاب بھی ہو اور پھر یہ بھی ہے کہ ہم ہی اسے تنہا دیکھیں آؤ کچھ جشن شہادت ہی میں شرکت ہو جائے اپنی کھڑکی ہی سے مقتل ...

مزید پڑھیے

شکوہ اب گردش ایام کا کرتے کیوں ہو

شکوہ اب گردش ایام کا کرتے کیوں ہو خواب دیکھے تھے تو تعبیر سے ڈرتے کیوں ہو خوف پاداش کا لفظوں میں کہیں چھپتا ہے ذکر اتنا رسن و دار کا کرتے کیوں ہو تم بھی تھے زود یقینی کے تو مجرم شاید سارا الزام اسی شخص پہ دھرتے کیوں ہو عافیت کوش اگر ہو تو برا کیا ہے مگر راہ پر خار محبت سے گزرتے ...

مزید پڑھیے

اک چھیڑ تھی جفاؤں کا تیری گلہ نہ تھا

اک چھیڑ تھی جفاؤں کا تیری گلہ نہ تھا ترک تعلقات مرا مدعا نہ تھا ناصح وہ شوخ دشمن ایماں تھا واقعی اور پھر مرا مزاج بھی کچھ عاشقانہ تھا ٹوٹا ہے اپنے زعم وفا کا طلسم آج محسوس ہو رہا ہے کہ تو بے وفا نہ تھا ہم خود بھی ترک راہ وفا پر ہیں منفعل پر کیا کریں کہ اور کوئی راستہ نہ تھا جب ...

مزید پڑھیے

عشق فانی نہ حسن فانی ہے

عشق فانی نہ حسن فانی ہے ان کا ہر لمحہ جاودانی ہے دیکھ رندوں پہ اتنا طعن نہ کر دیکھ رت کس قدر سہانی ہے شیخ فانی سہی یہ دھر مگر تیری جنت فقط کہانی ہے ایک بے کیف سا تسلسل ہے کوئی غم ہے نہ شادمانی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4045 سے 5858