شاعری

یقیناً رنگ لائے گی دعا آہستہ آہستہ

یقیناً رنگ لائے گی دعا آہستہ آہستہ کرے گا بے وفا بھی اب وفا آہستہ آہستہ گناہوں کی وبا سے بھی نہیں شرمندہ یہ عالم اتارے گا عذاب اپنے خدا آہستہ آہستہ سبھی زخموں کو اس نے پھر ہمارے کر دیا تازہ چلی ہے آج یوں باد صبا آہستہ آہستہ میں کیسے سکتے میں آخر کھڑا ہوں بیچ رستے میں کوئی دیتا ...

مزید پڑھیے

لگا ہے جو دل پر مرے تیر دیکھیں

لگا ہے جو دل پر مرے تیر دیکھیں ملی کیا محبت میں جاگیر دیکھیں ہے چہرے پہ میرے ہر اک حرف کندہ مرے آنسوؤں کی بھی تحریر دیکھیں ہوئے رائیگاں اپنے اعمال سارے نہ لائی اثر کوئی تدبیر دیکھیں اسی کشمکش میں شب و روز گزرے کوئی خواب دیکھیں کہ تعبیر دیکھیں سنا ہے وہاں امن کے گل کھلے ...

مزید پڑھیے

کہاں احسان میری ذات پر تقدیر کا ہوگا

کہاں احسان میری ذات پر تقدیر کا ہوگا ہوا گر کچھ مرے حق میں صلہ تدبیر کا ہوگا مری ہر شب گزر جاتی ہے اکثر اس تمنا میں کوئی تو خواب میری اس نئی تعبیر کا ہوگا بزرگوں کا بھی سایہ اب تو سر سے چھن گیا اپنے کہ یہ بھی حادثہ لکھا مری تقدیر کا ہوگا سبھی اوراق کہنے کو تو ہم نے کر لئے ہیں ...

مزید پڑھیے

فرشتوں جیسے دنیا میں بشر جلدی نہیں آتے

فرشتوں جیسے دنیا میں بشر جلدی نہیں آتے کہ سچائی کے حامی بھی نظر جلدی نہیں آتے تلاش رزق میں کچھ اس قدر مصروف رہتا ہوں مری بچی یہ کہتی ہے کہ گھر جلدی نہیں آتے نہ غم کا غم ہے مجھ کو اب نہ خوشیوں کی خوشی مجھ کو اب آنکھوں میں بھی اشکوں کے گہر جلدی نہیں آتے ہمیشہ دھند سی کیوں چھائی ...

مزید پڑھیے

برادروں کا مزاج بدلے یا گھر کا سارا رواج بدلے

برادروں کا مزاج بدلے یا گھر کا سارا رواج بدلے رہی یہ خواہش ہمیشہ اپنی جو کل بدلنا ہے آج بدلے ہمیں تو مطلب ہے روٹیوں سے جو بال بچوں کا پیٹ بھر دے غرض نہیں ہے کوئی بھی ہم کو یہ تخت بدلے کہ تاج بدلے ابھی بھی ذہنوں میں سادگی ہے کہ گاؤں چھوڑے زمانہ بیتا کہ شہر میں بس گئے ہیں لیکن کہاں ...

مزید پڑھیے

ادھورا اپنی ہی زندگی کا حساب ٹھہرا

ادھورا اپنی ہی زندگی کا حساب ٹھہرا جو چاہے پڑھ لے ہمارا چہرا کتاب ٹھہرا سنا تھا کانوں سے جو بھی اس نے وہ سب حقیقت ہماری آنکھوں نے جو بھی دیکھا وہ خواب ٹھہرا اکٹھا زر کر لیا ہے اس نے بھی اپنے گھر میں رذیل جتنا تھا اتنا عزت مآب ٹھہرا سنا ہے میں نے وہ شخص بھی بن گیا ہے اچھا ملوں گا ...

مزید پڑھیے

جبین پر کیوں شکن ہے اے جان منہ ہے غصہ سے لال کیسا

جبین پر کیوں شکن ہے اے جان منہ ہے غصہ سے لال کیسا ہزار باتیں ہوں ایک ہیں پھر بھلا یہ باہم ملال کیسا نہیں ہے اب تاب درد فرقت کہاں کی عزت کہاں کی غیرت ہیں مبتلا اپنے حال میں ہم کسی کا اس دم خیال کیسا بتاؤ مجھ کو یہ کیا ہوا ہے یہ کون سا درد لا دوا ہے یہ کیوں مرا دم الجھ رہا ہے ہے خود ...

مزید پڑھیے

ہے نو جوانی میں ضعف پیری بدن میں رعشہ کمر میں خم ہے

ہے نو جوانی میں ضعف پیری بدن میں رعشہ کمر میں خم ہے زمیں پہ سایہ ہے اپنے قد کا کہ جادۂ منزل عدم ہے یہی ہے رسم جہان فانی اسی میں کٹتی ہے زندگانی کبھی ہے سامان عیش و راحت کبھی ہجوم غم و الم ہے بتاؤ کیوں چپ ہو منہ سے بولو گہر فشاں ہو دہن تو کھولو عزیز رکھتے ہو جس کو دل سے اسی کے سر کی ...

مزید پڑھیے

شراب پی جان تن میں آئی الم سے تھا دل کباب کیسا

شراب پی جان تن میں آئی الم سے تھا دل کباب کیسا گلے سے لگ جاؤ آؤ صاحب کہاں کا پردہ حجاب کیسا اب آؤ بھی ہر طرف تکلف نقاب کیسی کہاں کا پردہ جھکائے کیوں سر ہو شرم سے تم عیاں ہے رخ سے حجاب کیسا بڑھا جو میں رکھ کے عذر مستی کہا یہ ہنس کر چڑھا کے تیوری ہٹو ذرا ہوش میں رہو جی سنبھالو دل ...

مزید پڑھیے

رونا ان کا کام ہے ہر دم جل جل کر مر جانا بھی

رونا ان کا کام ہے ہر دم جل جل کر مر جانا بھی جان جہاں عشاق تمہارے شمع بھی ہیں پروانہ بھی ساری عمر میں جو گزری تھی ہم پر وہ روداد لکھی پر ہوئی یوں مشہور کہ جیسا ہو نہ کوئی افسانہ بھی عشق سبھی کرتے ہیں مگر جو حالت مجھ پر طاری ہے منہ سے کہوں گر ہاتھ ملے گا اپنا بھی بیگانہ بھی پوچھتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4023 سے 5858