شاعری

لیس ہو کر جو مرا ترک جفا کار چلے

لیس ہو کر جو مرا ترک جفا کار چلے سیکڑوں خون ہوں ہر گام پہ تلوار چلے ناتوانی نے انہیں دریا پہ جانے نہ دیا اٹھ کے سو بار گرے راہ میں سو بار چلے تیرا کوچہ ہے وہ اے بت کہ ہزاروں زاہد ڈال کے سبحہ میں یاں رشتۂ زنار چلے اے شہ حسن مکدر نہ ہو گر تیرا مزاج خاک اپنی بھی جلو میں پس رہوار ...

مزید پڑھیے

فلک کی گردشیں ایسی نہیں جن میں قدم ٹھہرے

فلک کی گردشیں ایسی نہیں جن میں قدم ٹھہرے سکوں دشوار ہے کیوں کر طبیعت کوئی دم ٹھہرے قضا نے دوستوں سے دیکھیے آخر کیا نادم کئے تھے عہد و پیماں جس قدر وہ کل عدم ٹھہرے چھوا تو نے جسے مارا اسے اے افعئ گیسو یہ سب تریاق میرے تجربہ کرنے میں سم ٹھہرے کیا جب غور کوسوں دور نکلی منزل ...

مزید پڑھیے

دیکھ لو تم خوئے آتش اے قمر شیشہ میں ہے

دیکھ لو تم خوئے آتش اے قمر شیشہ میں ہے عکس داغ مہر کا اتنا اثر شیشہ میں ہے لوگ کہتے ہیں ترے رخسار تاباں دیکھ کر شمع ہے فانوس میں یا آب زر شیشہ میں ہے رات دن رہتی ہے نیت بادۂ گل رنگ میں یہ پری وہ ہے کہ جو آٹھوں پہر شیشہ میں ہے ساعد سیمیں سے تیرے اس کو کیا نسبت بھلا توبہ توبہ کب ...

مزید پڑھیے

وہ اٹھے ہیں تیور بدلتے ہوئے

وہ اٹھے ہیں تیور بدلتے ہوئے چلو دیکھیں تلوار چلتے ہوئے نہ دیکھا ترے دور میں اے فلک نہال تمنا کو پھلتے ہوئے ہیں انگشت حیرت بدنداں مسیح وہ مردے جلاتے ہیں چلتے ہوئے چلو مے کدہ محفل وعظ سے یہ عمامے دیکھو اچھلتے ہوئے زباں پر ترا نام جب آ گیا تو گرتے کو دیکھا سنبھلتے ہوئے محبت ...

مزید پڑھیے

گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹ

گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹ خزاں مچائے گی آتے ہی اس دیار میں لوٹ کشود کار کی کوشش میں دے نہ حرص کو دخل شکست دیتی ہے فوجوں کو کارزار میں لوٹ لبھائے سیکڑوں دل ان کے خال عارض نے مچائے زنگیوں نے وادیٔ تتار میں لوٹ وہ منتظم ہے رہے جس کی جز و کل پہ نظر نہ کر سکے کوئی گونگیر ...

مزید پڑھیے

ہے آٹھ پہر تو جلوہ نما تمثال نظر ہے پرتو رخ

ہے آٹھ پہر تو جلوہ نما تمثال نظر ہے پرتو رخ عارض ہے قمر خورشید جبیں شب زلف سحر ہے پرتو رخ آنکھوں میں ہوا ہے گھر تیرا دل کہتا ہے رکھ ہر دم پردہ ہو چشم تمنا کیوں کر وا عاشق کی نظر ہے پرتو رخ جب مد نظر اغیار تھے واں تاریک تھا یاں آنکھوں میں جہاں روشن ہے چراغ روح رواں کیا آج ادھر ہے ...

مزید پڑھیے

فراق میں دم الجھ رہا ہے خیال گیسو میں جانکنی ہے

فراق میں دم الجھ رہا ہے خیال گیسو میں جانکنی ہے طناب جلاد کی طرح سے رگ گلو آج کل تنی ہے نہیں ہے پروائے مال و دولت صفائے باطن سے دل غنی ہے گدا ہیں حاجت روائے سلطاں یہ کیمیائے فروتنی ہے جگر میں ہیں داغ مہر و الفت شگاف پہلو ہے جیب مشرق شب لحد ہے کہ صبح محشر یہ کس قیامت کی روشنی ...

مزید پڑھیے

کسی کی جبہ سائی سے کبھی گھستا نہیں پتھر

کسی کی جبہ سائی سے کبھی گھستا نہیں پتھر وہ چوکھٹ موم کی چوکھٹ ہے یا میری جبیں پتھر کھلا اب رکھتے ہیں پہلو میں پنہاں نازنیں پتھر نہ تھا معلوم ہیں قلب بتان و مہ جبیں پتھر بٹھایا خاتم عزت پہ تیرے نام نامی نے وگرنہ ہے یہ ظاہر تھا حقیقت میں نگیں پتھر دکھائے پھر نہ کیوں تاثیر اپنی ...

مزید پڑھیے

فریاد بھی میں کر نہ سکا بے خبری سے

فریاد بھی میں کر نہ سکا بے خبری سے دل کھینچ لیا اس نے کمند نظری سے اس بت کو کیا رام نہ سوز جگری سے نالے مرے بدنام ہوئے بے اثری سے کب دل پہ اثر کرتا ہے ظالم کا تملق ملتے ہیں کہیں زخم جگر بخیہ گری سے ہے سایہ فگن تازہ نہال چمن حسن نسبت مرے دل کو ہے عقیق شجری سے اڑ جاتے تیرے ہوش مرے ...

مزید پڑھیے

وہ یوں شکل طرز بیاں کھینچتے ہیں

وہ یوں شکل طرز بیاں کھینچتے ہیں کہ قائل کی گویا زباں کھینچتے ہیں یہ تشہیر دیکھو سگ کوئے دلبر ابھی تک مری ہڈیاں کھینچتے ہیں کرے گر کوئی ذکر جا کر ہمارا وہ تالو سے اس کی زباں کھینچتے ہیں نہ صدمہ سے کیوں خشک ہو خون بلبل گلوں کا عرق باغباں کھینچتے ہیں بڑھی ہے سفر میں وطن کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4024 سے 5858