لیس ہو کر جو مرا ترک جفا کار چلے
لیس ہو کر جو مرا ترک جفا کار چلے سیکڑوں خون ہوں ہر گام پہ تلوار چلے ناتوانی نے انہیں دریا پہ جانے نہ دیا اٹھ کے سو بار گرے راہ میں سو بار چلے تیرا کوچہ ہے وہ اے بت کہ ہزاروں زاہد ڈال کے سبحہ میں یاں رشتۂ زنار چلے اے شہ حسن مکدر نہ ہو گر تیرا مزاج خاک اپنی بھی جلو میں پس رہوار ...